ایون فیلڈ ریفرنس :خواجہ حارث کی واجد ضیاء سے جرح مکمل

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے  جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا ءسے جرح مکمل کرلی۔

بدھ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی ،اس موقع پر مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اورکیپٹن ریٹائرڈ صفدر احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

احتساب عدالت میں واجد ضیاءپر جرح کے دوران خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر کے درمیان آج بھی تکرار ہوئی۔

خواجہ حارث نے واجد ضیا ءسے سوال کیا کہ کیا جے آئی ٹی رپورٹ میں ایون فیلڈ ، نیلسن اورنیسکول نوازشریف کی مالکیت ہونے  سے متعلق دستاویزات ہیں،جس پرواجد ضیا ءنے جواب دیا کہ رپورٹ میں ایسی کوئی دستاویزات نہیں۔

واجد ضیا نے یہ بھی کہا کہ  کسی گواہ نے آف شورکمپنیوں کے شئیرز نوازشریف کے پاس ہونے کا بیان نہیں دیا،نہ ہی لندن فلیٹس نوازشریف کے قبضے میں ہونے کی  کوئی دستاویزات ملیں۔

خواجہ حارث نے پوچھا کہ کیا جے آئی ٹی کے رکن  بلال رسول کی میاں اظہرسے رشتے داری ہے،ان کی اہلیہ کے انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق بھی سوال کیا،جس پرواجد ضیا ءنےجواب دیا کہ بلال رسول میاں اظہرکے بھانجے ہیں۔

ان کی اہلیہ کے انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق سوال پر واجد ضیا ءنے جواب دیا کہ اس بارے میں وہ  یقین سے نہیں کہ سکتے،جے آئی ٹی ممبر عامر عزیز اور بریگیڈیئر نعمان سعید کی گزشتہ تعیناتیوں سے متعلق بھی واجد ضیا نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

نیب پرایسکیوٹر بولے کہ خواجہ حارث جے آئی ٹی ممبران کومتنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔

خواجہ حارث نے جواب دیا کہ  سپریم کورٹ کہہ چکی احتساب عدالت میں ٹرائل کو عدالت عظمی کا فیصلہ متاثر نہیں کرے گا اورجے آئی ٹی پربھی اعتراض اٹھائے جا سکتے ہیں،جس کے بعد خواجہ حارث نے  واجد ضیاءسے جرح مکمل کرلی ۔

loading...
loading...