ایون فیلڈ ریفرنس:مریم نواز کے وکیل کی واجد ضیاء پر جرح مکمل

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران  مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء پر جرح مکمل کرلی ۔

منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی ۔

سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی بیٹی مریم نوازاور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدراحتساب عدالت میں پیش پیش ہوئے جبکہ سینیٹر پرویز رشید، مشاہد حسین، محمود خان اچکزائی اوردیگر لیگی رہنما ءبھی عدالت میں موجود تھے۔

مریم نوازکے وکیل امجد پرویزکی اہم گواہ واجد ضیاء پر جرح کرتے ہوئےبرٹش ورجن آئی لینڈ کولکھے گئےخطوط سے متعلق پوچھا۔

واجد ضیاء نے تین خطوط عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایاکہ خطوط 20مئی ،31مئی اور 23جون 2017 کولکھے گئے،جن میں،نیلسن،نیسکول کومبراوردیگرکی سرٹیفائیڈ دستاویزات کی کاپی مانگی تھی،رجسٹرڈ ڈائریکٹر،نامزد ڈائریکٹر،شیئرہولڈر،بینیفشری اور ٹرسٹی سےمتعلق تفصیل مانگی تھیں جن کا جواب ابھی تک نہیں آیا۔

وکیل نے کہاکہ جواب نہ دینے کا مطلب برٹش ورجین آئی لینڈ نے خطوط کو مسترد کردیا۔

واجد ضیاء نے کہاکہ 31 مئی کے خط میں دستاویزات کی تصدیق کی درخواست نہیں کی، جے آئی ٹی نے غلطی سے 23جون کے خط میں31 مئی کومستردہ شدہ لکھا جوغلطی سے ڈائریکٹرایف آئی اے کے نام پربھیجا گیا،16جون کوبی وی آئی کی ای میل موصول ہوئی جسے ریکارڈ کاحصہ نہیں بنایا۔

جس پرڈائریکٹر ایف آئی اے بی وی آئی ایریل جارج کے دستخط ہیں،3جولائی2017 اور12جون 2012 کے خطوط پرلوگو اورایڈریس مختلف ہیں،تاہم ٹیلیفون،فیکس نمبراورای میل ایڈریس ایک جیسا ہے۔