ایس ایس پی تشدد کیس میں عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ایس ایس پی تشدد کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی۔

منگل کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے عمران خان کے خلاف ایس ایس پی تشدد کیس کی سماعت کی۔

سرکاری وکیل نے عمران خان کی عدم حاضری اور مستقل حاضری استثنیٰ کی درخواستوں کی مخالفت کی اور کہا کہ اسی کمپلیکس میں سابق وزیراعظم نواز شریف بھی پیش ہو رہے ہیں، عمران خان عدالتوں کے لاڈلے ہیں۔

عمران خان کے وکیل شاہد گوندل نے کہا کہ سرکاری وکیل سے کسی سیاسی جماعت کی زبان بولنے کی توقع نہیں تھی ، آپ یہاں سیاسی جماعت کے نہیں سرکار کے نمائندے ہیں۔

دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کوثر عباس زیدی نے پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت کی۔

عدالت میں تحریک انصاف کے رہنماء عارف علوی، اسد عمر اور اعجاز چوہدری پیش ہوئے جبکہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے آج پیشی کیلئے استثنیٰ حاصل کر رکھا تھا۔

سماعت کے دوران عدالت نے مقدمے میں نامزد ملزمان ڈاکٹر طاہرالقادری، پرویز خٹک اور جہانگیر ترین کو بدستور مفرور قرار دے دیا اور حکم دیا کہ ملزمان کے اسٹیٹس پر جامع رپورٹ پیش کی جائے۔

عدالت نے کہا کہ رپورٹ میں بتایا جائے کہ کتنے ملزمان کی ضمانت ہوئی اور نامزد کتنے ملزمان نے استثنیٰ حاصل کیا اور کون مفرور ہے۔

سرکاری وکیل نے عمران خان کی مستقل استثنیٰ سے متعلق درخواست پر دلائل کیلئے وقت مانگ لیا ۔

پی ٹی آئی پنجاب کے رہنماء اعجاز چوہدری کی درخواست ضمانت بھی منظور کرلی گئی تاہم اسد عمر، شاہ محمود قریشی اور شفقت محمود کے خلاف پیش کردہ عبوری چالان میں تینوں کو ملزمان قرار دیا گیا۔

 عدالت نے تینوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 27 مارچ تک ملتوی کر دی، آئندہ سماعت پر عمران خان کی مستقل استثنیٰ اور بریت کی درخواست پر بھی بحث ہوگی۔

loading...
loading...