مثبت ڈوپ ٹیسٹ: احمد شہزاد کو کتنی سزا ہو سکتی ہے؟

Untitled-1

ڈوپ کیس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے نوٹس ملنے کے بعد ٹیسٹ اوپنر احمد شہزاد عارضی معطلی کے سبب کسی بھی طرح کی کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔ احمد شہزاد کے پاس یہ گنجائش موجود ہے کہ وہ اپنے ڈوپ ٹیسٹ کے بی سمپل کے تجزیے کی درخواست 18 جولائی تک کرسکتے ہیں یا پھر 27 جولائی تک وہ اینٹی ڈوپنگ ٹریبونل کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ احمد شہزاد کو کم سے کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ چار سال تک کی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کرکٹ بورڈ نے انہیں جواب طلبی کا نوٹس بھیج دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ نہیں بتایا کہ احمد شہزاد نے کونسی ممنوع شے کا استعمال کیا تھا۔ تاہم ذرائع کہتے ہیں کہ انہوں نے حشیش استعمال کی تھی۔

احمد شہزاد پاکستان کی جانب سے 13 ٹیسٹ، 81 ون ڈے انٹرنیشنل اور 57 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچ کھیل چکے ہیں، وہ پاکستان کی جانب سے تینوں فارمیٹس میں سنچریاں بنانے والے واحد بیٹسمین ہیں۔

رواں سال اپریل میں پاکستان کپ کے ایک میچ کے دوران احمد شہزاد کا ڈوپ ٹیسٹ لیا گیا تھا جس کے بعد گزشتہ ماہ 20 جون کو میڈیا پر یہ خبریں آئی تھیں کہ ان کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا ہے تاہم ان خبروں کی تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔

مذکورہ رپورٹ میں احمد شہزاد کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق ہوگئی ہے، اور اب پی سی بی ان کے خلاف چارج شیٹ جاری کرے گا، جس کے بعد انہیں 14 روز کے اندر اس کا جواب دینا ہوگا۔واضح رہے کہ احمد شہزاد پاکستان کے پہلے کھلاڑی نہیں ہیں جن کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا ہے، ان سے قبل شعیب اختر، محمد آصف، عبدالرحمٰن، رضا حسن اور کئی کرکٹرز کو ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

loading...
loading...