امریکی صدر اور شمالی کوریا کے رہنماء کے درمیان تاریخی ملاقات

فائل فوٹو

فائل فوٹو

سنگاپور: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنماءکم جونگ اُن کے درمیان   سنگا پور میں تاریخی ملاقات  ہوئی۔

ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دینے والے ایک میز پر آ گئے،ماضی کے دو بڑے دشمن ممالک کے درمیان برف بالآخر 67 سال بعد پگھل گئی۔

منگل کو امریکی صدر ٹرمپ اور سربراہ شمالی کوریا کم جونگ ان کے درمیان سنگاپور میں ہونے والی ون آن ون تاریخی ملاقات 48 منٹ جاری رہی۔

 دونوں سربراہوں نے ملاقات سے قبل خوشگوارموڈ میں مصافحہ کیا اورتصویریں بنوائیں جبکہ ملاقات کیلئے سخت ترین سیکیورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے۔

وفود کے ہمراہ ملاقات میں امریکی وزیرخارجہ جان بولٹن، چیف آف اسٹاف بھی شریک جب کہ کم جونگ ان کے دست راست کم یونگ چول، موجودہ سابق وزیر خارجہ بھی شریک رہے۔

 ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دنیا بھرکے 3000 ہزارصحافی بھی سنگاپور میں موجود ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کم جونگ ان سے ملاقات میرے لئے اعزاز کی بات ہے جوبہت اچھی رہی، میں اور کم جونگ ان بہت بڑا مسئلہ حل کرلیں گے اور بات چیت کا نتیجہ شاندار کامیابی کی صورت میں نکلے گا۔

کم جونگ ان سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدرکا کہنا تھا کہ شمالی کوریا سے اب اچھے تعلقات قائم ہوں گے، شمالی کوریا کے ساتھ بہترین تعلقات کے لیے پرامید ہوں، توقع ہے کم جونگ ان سے تعلقات بہترین رہیں گے جب کہ مل کر کام کرکے ہی اہداف حاصل کر سکیں گے۔

دوسری جانب کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات کے لیے تمام خدشات اور قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا، تلخ ماضی کو بھول کرامن کی نئی صبح کی امید کرتے ہیں، کچھ زنجیروں نے جکڑ رکھا تھا، آنکھیں اورکان بند تھے اور ماضی کے تعصب اور مسائل آگے بڑھنے میں رکاوٹ بنے رہے۔

سربراہ شمالی کوریا کا کہنا تھا کہ دونوں سربراہوں کا ملاقات تک پہنچنا آسان نہیں تھا، شمالی کوریا اور امریکا نے ملاقات کیلئے تمام رکاوٹیں عبورکیں، یقین ہے ملاقات امن کیلئے بہت مفید رہے گی، چینلجزہوں گے مگر صدر ٹرمپ کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔

loading...
loading...