امریکا شام میں کیا سازش رچ رہا ہے؟

Untitled-1

امریکا کے  ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری جوناتھن کوہن کا کہا ہے کہ شام میں موجود پیپلز پروٹیکشن یونٹ ( وائی پی جی) کے ساتھ تعلقات قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ تعلقات عارضی، ٹرانزیکشنل اور  تدابیری  بنیادوں پر ہوں گے۔

گزشتہ سال  17 مئی کو امریکا کہ ڈپٹی اسسٹنٹ کی جانب سے یہ کہا گیا کہ’امریکا  داعش کو ہرانے کے بعد وائی پی جی کے ساتھ تعلقات ختم کر دے گا۔’

پھر گزشتہ سال جون میں امریکی دفاعی سیکریٹری  جیمز میٹس  نے برسلز میں یہ  مطالبہ ترکی کے ہم منصب کے سامنے پیش کیا۔ترکی نے امریکا کہ اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا،کیونکہ وائی پی جی شام کی ایک تنظیم ہے،جس کا تعلق  ترکی میں موجود  پی کے کے نامی دہشت گروپ سے بھی ہے، جو پچھلے تیس سال سے زائد عرصے سے ترکی کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔

گزشتہ سال دسمبر  میں  داعش کے خلاف عالمی اتحاد  کی کانفرنس میں  امریکی سفیر  بریٹ میک گرگ نے کہا کہ’جنوری سے اب تک   پچھلے گیارہ مہینوں میں  امریکا  نے 95 فیصد داعش کا خاتمہ کیا اور  50 فیصد علاقہ جو داعش کے قبضے میں تھا اسے  خالی کروایا۔’

لیکن اب بات یہ ہے کہ کیا امریکا داعش کے خاتمے کے بعد  وائی پی جی کے ساتھ تعلقات کا خاتمہ کرے گا؟ کیا امریکا اپنے  وعدے کو پورا کرے گا؟

حال ہی میں امریکا کی جانب سے چار ہزار سے زائد   ہتھیاروں سے بھرے ٹرک  وائی پی جی  کو فراہم کئے گئے۔  سیکیورٹی  ماہرین کے مطابق فراہم کیے گئے ہتھیاروں میں صرف چھوٹے ہتھیار ہی نہیں بلکہ فضائی دفاع کے ہتھیار بھی شامل تھے۔

سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا داعش کے پاس  جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹرز موجود ہیں ؟  اگر نہیں، تو پھر امریکا  نے کیوں وائی پی جی کو  فضائی دفاع کے لئے ہتھیار   فراہم کئے؟

لگتا یہ ہے کہ امریکا کا نیا مقصد  اپنے وعدے سے سے ہٹ کر شام میں وائی پی جی کے ساتھ  مستقل تعلقات قائم کرنا ہے۔

امریکا  کے مطابق وہ و ائی پی جی کے ساتھ مل کر تین ہزار  افرد پر مشتمل  بارڈر فورس تشکیل دے رہا ہے، جو شامی سرحد ، عراق  اور ترکی کے آس پاس  تعینات  ہونگی، تاکہ وہ شام کو پیشہ ورانہ طور پر محفوظ چیک پوائنٹس  فراہم کرسکیں اور    دھماکہ خیز مواد( آئی ای ڈی) کے خلاف مؤثر آپریشنز انجام دے سکیں۔

کیا امریکا شام میں وائی پی جی کے زریعے  شام اور آس پاس کے خطے میں اثرو رسوخ بڑھاکر ترکی کو کمزور کرنا چاہ رہا ہے؟؟  یا پھر وائی پی جی کو روس کے خلاف کھڑاکرنا ہے؟

loading...
loading...