العزیزیہ ریفرنس:نئی بینک دستاویزات کے خلاف نواز شریف کی درخواست خارج

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:احتساب عدالت نے العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس میں نجی بینک منیجر نورین شہزاد کی جانب سے پیش کردہ نئی دستاویزات ریکارڈ کا حصہ بنانے کے خلاف نواز شریف کی درخواست خارج کردی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ملز ریفرنس کی سماعت کی۔

 اس موقع پر نواز شریف کی وکیل عائشہ حامد نے موقف اپنایا کہ بینک منیجر نورین شہزاد گواہوں میں شامل نہیں لہذا دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا، دستاویزات کو ریکارڈ سے خارج کیا جائے۔

 نیب پراسیکیوٹر نے دلائل میں کہا کہ نورین شہزاد بطور گواہ نہیں، صرف ریکارڈ کی حد تک پیش ہوئی ہیں۔

عدالت نے نجی بینک مینیجر نورین شہزاد کی دستاویزات ریکارڈ کا حصہ بنانے کے خلاف نواز شریف کی درخواست خارج کردی۔

 سماعت کے موقع پر نوازشریف کے نمائندے ظافر خان عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نوازشریف کے پاکستانی کرنسی اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی پیش کی گئی۔

استغاثہ کے گواہ نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ 12 مئی 2012 کو نوازشریف نے 28 سے زائد چیکس جاری کئے، تمام چیکس کی مالیت 50 ہزار روپے تھی جبکہ زیادہ تر چیکس خواتین کو جاری ہوئے۔

 احتساب عدالت کے جج نے استفسار کیا کہ یہ اتنی رقم کون دے رہا ہے جس پر نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ یہ رقم نوازشریف کی طرف سے جاری کی گئی۔