اب احتساب پٹواری یا تھانیدار سے نہیں اوپر سے شروع ہوگا،چیئرمین نیب

فائل فوٹو

فائل فوٹو

کوئٹہ :چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ اب احتساب پٹواری یا تھانیدار سے نہیں اوپر سے شروع ہوگا۔

بدھ کو کوئٹہ میں قومی احتساب بیورو (نیب) بلوچستان کے دفتر میں تقریب ہوئی،تقریب میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال اور نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان علاؤ الدین نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نےکہا کہ اب احتساب پٹواری سے نہیں اوپر سے شروع ہوگا، نیب جو کچھ کررہا ہے وہ کسی انتقامی کاروائی کا حصہ نہیں اور نیب کو الیکشن میں دخل اندازی دینےکی بھی کوئی ضروت نہیں، یہ جمہور پر ہے کہ وہ کسے برسراقتدار لاتےہیں، اس کا نیب سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نےمزیدکہا کہ اگر کسی نے کچھ کیا ہے، چاہے وہ سیاستدان ہو یا کوئی بھی ہو، اس سے پوچھا جائے گا، اسے سیاست نہ کہا جائے، نیب کی سرگرمیاں جہاد اور عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں بہت سے ارباب ایسے تھےجو خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ ان سے رقوم سے متعلق پوچھا جائےگا اور جب پوچھا گیا تو کسی نے کہا وہ وزیراعلیٰ تھے اور کسی نے کہا وہ وزیر خزانہ تھے، انہیں بڑے آرام سے سمجھا گیا کہ اب مغلیہ دور گزر چکا ہے، اب آپ کا ہر حکم لوگوں کی بہتری کیلئے ہونا چاہیے۔

جاوید اقبال ریٹائرڈ نے کرپشن کو کینسرقراردیتے ہوئے کہا کہ کب تک ہم جانوروں کی طرح زندگی گزاریں گے کیونکہ یہ کینسر نہیں دیمک ہے۔

ان کا مزیدکہنا تھاکہ نیب کسی قسم کی سیاست میں نیب ملوث تھا اور نہ ہوگا، ان لوگوں کی طرف سے من گھڑت الزامات لگائے گئے جنہیں یہ پسند نہیں کہ نیب اتنا با اختیار بھی ہوسکتا ہے اور ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھ سکتا ہے، ملک میں ان لوگوں کیلئے اب کوئی جگہ نہیں، انہوں نے 70سال میں ملک کیلئے کچھ نہیں کیا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کی وجہ سے ملک کا نظام رک گیا، یہ الزام سجھ نہیں آتا، آج تک ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جس کے اثرات ملکی معیشت پر ہوں، کیا نیب کو علم نہیں کہ معیشت عالم نزاع میں ہے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ باہر موجود کروڑوں اربوں ڈالر صاحب اختیار اور کچھ اور طبقات کے ہیں، انہیں جواب دینا ہوگا کہ پاکستان کیلئے جو پیسہ تھا وہ باہر کیسے گیا، اس پیسے کی واپسی میں تاخیر ہے کیونکہ طریقہ کار کچھ پیچیدہ ہے۔

چیئرمین نیب نے مزیدکہا کہ کرپشن میں سارے صوبے برابر کے شریک ہیں، کوئی کسی سے پیچھے نہیں، وسائل بے دردی سے لوٹے گئے، نیب کی کوشش ہے کہ لوٹے وسائل اور رقومات کو واپس لایا جائے تاکہ عوام پر خرچ کی جاسکے۔

انہوں نے سابق سیکریٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گرفتاری اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے، یہ وہ دولت ہے جو چوری نہیں کی گئی بلکہ بلوچستان کے وسائل اور خزانے پر ڈاکا ڈالا گیا انہیں نظر نہیں کیا جاسکتا۔

loading...
loading...