گردوں میں پتھری کی علامات

-The Kidney Disease Solution Review

-The Kidney Disease Solution Review

گردوں میں پتھری پیدا ہوجانا ایک تکلیف دہ مرض ہے، اس کا علاج بھی آسان نہیں ہے، کیونکہ یہ ممکنہ طور پر دوبارہ بھہ ہوسکتی ہے۔

گردوں میں پتھری کم پانی پینے، موروثی، زیادہ نمک اور کیلشیئم والے کھانے، موٹاپا، ذیابیطس، پیٹ کے امراض اور سرجری وغیرہ سے ہوتی ہے۔

گردے کی پتھری پیشاب کی نالی کے کسی بھی حصے کو متاثر کرسکتی ہے اور وہاں سے ان کا نکلنا کافی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔

عام طور پر اس سے کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوتا، درد کش ادویات اور بہت زیادہ پانی پینا معمولی پتھری کو نکانے کیلئے کافی ثابت ہوتا ہے تاہم اگر وہ پیشاب کی نالی میں پھنس جائے یا پیچیدگیوں کا باعث بنے تو پھر سرجری کروانا پڑتی ہے۔

آغاز میں اس کی علامات سامنے نہیں آتیں تاہم گردوں میں حرکت کرنے یا پیشاب کی نالی میں جانے کے بعد یہ علامات سامنے آتی ہیں۔

بالغ افراد میں اکثر گردوں میں پتھری کی تشخیص ہی اس وقت ہوتی ہے جب وہ پسلیوں کے نیچے سائیڈ اور پیچھے کی جانب کی بہت شدید درد، ایسا درد جو پیٹ سے نیچے جاتا محسوس ہو یا ایسا درد جس کی لہریں اور ارتعاش شدت سے محسوس ہو کے باعث ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں، معدے اور کمر کے اطراف میں ہونے والا اچانک اور شدید درد ہی اس کی واضح نشانی ہوتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق گردوں میں پتھری کی صورت میں لوگوں کو اچانک شدید درد کا سامنا ہوتا ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ پتھری کے حجم کا تعلق درد سے نہیں ہوتا، بہت چھوٹی پتھری بھی تکلیف دہ درد کا باعث بن سکتی ہے جبکہ بڑی پتھری سے ہوسکتا ہے درد نہ ہو۔

ایک اور انتباہی نشانی پیشاب میں خون آنا ہے، ایسا اکثر مریضوں کے ساتھ ہوتا ہے اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی اچھی علامت نہیں اور اسے دیکھنے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہئے۔

اچانک درد اور پیشاب میں خون آنا تو گردوں میں پتھری کی واضح علامات ہیں، مگر چند نشانیوں کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جیسے متلی یا جی متلانا، قے ہونا، بہت زیادہ پسینے کا اخراج اور درد کی شدت سے رنگت زرد پڑ جانا وغیرہ۔ چند اقسام کی پتھریوں کے نتیجے میں انفیکشن کا سامنا ہوتا ہے جو کہ بخار کا باعث بنتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ایک آسان طریقہ جس سے لوگ گردوں میں پتھری کو بننے سے روک سکتے ہیں، وہ مناسب مقدار میں پانی کا استعمال ہے کیونکہ ڈی ہائیڈریشن کو گردوں میں پتھری کی ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔

بشکریہ healthline.com