نایاب بیماری میں مبتلا 19ماہ کی بچی

bachi

انیس ماہ کی شیرخوار بچی جس نے اپنی پوری زندگی ایک نایاب بیماری کی وجہ سے اسپتال میں گزار دی ہے، پہلی بار خود سے اٹھ کر بیٹھی گئی۔

گریسی ہیٹر ایپرٹ سنڈروم کا شکار ہے۔ یہ ایک ایسی جینیاتی بیماری ہے جس میں ہڈیاں کھوپڑی  اور ریڑھ کی ہڈی میں مل جاتی ہیں جس کی وجہ سے دماغ کی نشونما میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

گریسی 12سنجیدہ نوعیت کی سرجریوں سے گزر چکی ہے۔این  میں ایک سرجری ایسی تھی  جس میں اس کے کھوپڑی کی ملی ہوئی ہڈیوں کو علیحدہ کیا گیا  تھا تاکہ اس کا دماغ نشونما پا سکے۔

گریسی کے ساتھ اتنا کچھ ہونے کے باوجود  اُس کے والدین اُسے زندگی کی کرن بتاتے ہیں لیکن اس بات کو تسلیم بھی کرتے ہیں کہ گریسی بمشکل ہی دس برس کی عمر تک پہنچ سکے۔

گریسی کو اس بیماری تشخیص جو ایک لاکھ بچوں میں ایک کو ہوتی ہے، اس وقت ہوئی جب ان کی والدہ اس کی  قبل از وقت(ساتویں مہینےمیں)ولادت کیلئے گئیں۔

ڈینور کے ایک مقامی اسپتال میں ڈاکٹروں نے ان کا لیبر چار ہفتوں تک(گریسی کی ولادت)تک مؤخر کردیا۔

بچی کی پیدائش کے بعد  اُسے  انتہائی نگہداشت میں لےجایا گیا جہاں ڈاکٹروں کو معلوم ہوا کہ بچی کا نظامِ تنفس کی شکل بھی بگڑی ہوئی ہے۔ تب انہوں نے اُسے وینٹیلیٹر میں ڈالا۔

بچی کی سانس کی نالی پیدائشی طور پر بل کھائی ہوئی تھی اور دائیں پھیپھڑے سے جڑنے والی نالی تنگ تھی۔

پیدائش کےایک ماہ بعد گریسی کو سی ایٹل  چلڈرن ہاسپیٹل میں منتقل کردیا گیا جہاں وہ 18ماہ سے داخل ہے۔

Daily mail بشکریہ

loading...
loading...