داڑھی والی خواتین کو کیا دکھ جھیلنے پڑتے ہیں؟

rozegilimage

اگر خواتین چہرے پر بال نکل آئے تو یہ ان کیلئے نفسیاتی طور پر پریشانی کا سبب بنتا ہے ، اس موضوع پر تحریک چلانے والے ویب سائٹ وی فیس اٹ کے مطابق تقریبا چالیس فیصد خواتین کو چہرے پر غیر ضروری بالوں کے اگ آنے یا نکل آنے کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ تاہے ۔ 

پہلے کے موازنے میں اب کئی خواتین طبی یا پھر صحت کے مسئلے کے باعث داڑھی رکھنے پر مجبور ہیں۔  تاہم اس خواتین کی داڑھی یا پھر غیر ضروری بال سے متعلق تحریک میں شامل خواتین نے اس حوالے سے اپنے جذبات عوام کوبتائے ہیں۔

ہرنام کورر نامی خاتون کو بھی داڑھی ہونے کے مسئلے کا سامنا ہے۔ اور دوہزار سترہ بھی ان کیلئے انتہائی تاریک ثابت ہوا۔ اپنے انسٹاگرام اکاونٹ پر انہوں نے لکھا کہ مسائل اور غیر مناسب رویئے کے مسائل ان کے ذہن میں گزشت سال بار بار آتے رہے تاہم دوہزار سترہ کے سال کے اختتامی ماہ میں خودکشی کا انتہائی خیال بھی ان کے ذہن میں آیا۔

ہرنام کورو نے مزید بتایا کہ دوہزار اٹھارہ کا نیا سال ان کیلئے نئی امید کی نوید ثابت ہوا کیونکہ داڑھی والی خاتون کے لقب سے پکارا جانا کسی صورت بھی بے عزتی کی علامت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ہرنام کوور کو گیارہ سال کی عمر سے ہی چہرے پرداڑھی کے مسئلے کا سامنا تھا اور یہی وجہ تھی کہ اپنی طالبعلمی اور ملازمت کے دور میں ان کو ناروا سلوک کا سامنا رہا۔ تاہم اب ہرنام کوور اب انسٹاگرام پر کافی مقبول ہوگئی ہیں اور عام طور پر خواتین کو مضبوط یا بااختیار بنانے سے متعلق پیغامات جاری کرتی رہتی ہیں۔

harnamm

روز گل کا شمار بھی انہیں خواتین میں ہوتا ہے جن کو داڑھی کے مسئلے کا سامنا ہے۔ تاہم دوہزار سولہ میں انہوں نے مکمل طور پر داڑھی رکھنے کا فیصلہ کیا اور بتایا کہ اب روز گل خود میں پہلے کےموازنے میں زیادہ نسوانیت محسوس کرتی ہیں۔ روز گل کو اس مسئلے کا سامنا تیرہ سال کی عمر سے کرنا پڑا جب ان کی داڑھی کے بال اچانک تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئے۔

اپنے ایک انٹرویو میں روز نے بتایا کہ تاہم اسکول کے دوران انہوں نے اپنے بالوں کے مسئلے کو کامیابی سے چھپا کر رکھاتاہم اس دوران روز نے کسی بھی نوعیت کی پارٹیز میں جانے سے گریز کیا۔

لیکن اب روز گل کا کہنا ہے کہ وہ خود میں پہلے کے موازنے میں زیادہ نسوانیت محسوس کرتی ہیں اور اسکا کسی بھی طرح ان کی ظاہری دکھاوٹ سے تعلق نہیں ہے ، روز گل نے مزید بتایا کہ اس کا تعلق ان کے اپنے آزادانہ رویئے سے ہے ۔ اور یقینی طور پر خود کو خاتون اور دلکش محسوس کرتی ہیں۔

اپنے ایک انٹرویو میں روز گل کا کہنا تھا کہ انسٹاگرام اکاونٹ پر سب سے زیادہ ردعمل اور تعریف ان کی اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے پر ہوتی ہے۔

Courtesy: indy100