شبانہ اعظمی کو ملک چھوڑنے کا مشورہ، جاوید اختر بھڑک اٹھے

javedshabana

حال ہی میں سابقہ اداکارہ اور موجودہ سیاسی رہنما شبانہ اعظمی نے ایک پروگرام کے دوران کہا تھا کہ آج کے وقت میں کوئی اگر حکومت پر تنقید کرے تو اس کو ملک مخالف مان لیا جاتا ہے، اُن کے اس بیان کو لے کر شدید ہنگامہ مچا تھا۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بیان کے بعد شبانہ اعظمی کو سوشل میڈیا پر سخت مخالفت کا سامنا تھا جبکہ انہوں نے ناقدین کو کرارا جواب بھی دیا تھا، لیکن لوگ پھر بھی باز نہ آئے۔

شبانہ اعظمی کو متعدد صارفین کی جانب سے ملک چھوڑے کے مشورے دیئے جانے لگے، اپنی اہلیہ کو مشکل حالات میں دیکھ کر جاوید اختر بھی اُن کی حمایت میں اتر آئے۔

انہوں نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹر پر لکھا کہ ‘جب ہمارے باپ دادا ملک کی آزادی کیلئے خون بہا رہے تھے تو تیرے جیسوں کے باپ دادا انگریزوں کے جوتے چاٹ رہے تھے، غداروں کی اولاد تیری کیا اوقات ہے کہ تو ہم سے ہمارا ملک چھوڑنے کیلئے کہے’۔

جب شبانہ اعظمی نے یہ بیان دیا تھا تو وہ سوشل میڈیا ٹرولرز سے تنگ آگئی تھیں جس کے بعد انہوں نے مزاحیہ انداز میں ‘لکھا کہ میرے ایک تبصرہ کو لے کر اتنا ہنگامہ؟ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں رائٹ ونگ کی نظر میں اتنی اہمیت رکھتی ہوں۔ دیپا مہتا کی فلم واٹر کیلئے میرا سر منڈوانے پر میرے خلاف مسلم شدت پسندوں نے فتوی جاری کیا تھا، جس پر جاوید اختر کا جواب تھا ، چپ رہو’۔

انہوں نے آگے لکھا کہ ‘میں لوگوں کو یاد دلانا چاہتی ہوں کہ کانگریس حکومت کے وقت میرے والد کیفی اعظمی نے اپنا پدم شری ایوارڈ اُس وقت واپس کردیا تھا جب اترپردیش کے ایک لیڈر نے کہا تھا کہ اردو کو دوسری زبان کا درجہ دلانے کا مطالبہ کرنے والوں کا منہ کالا کرکے گدھے پر گھمانا چاہیئے۔

شبانہ کے اس ٹویٹ پر ایک صارف نے ان سے ہندوستان چھوڑنے کی بات کہی، جس پر جاوید اختر نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

 

جاوید اختر نے لکھا کہ ‘جب ہمارے باپ دادا ملک کی آزادی کیلئے خون بہا رہے تھے تو تیرے جیسوں کے باپ دادا انگریزوں کے جوتے چاٹ رہے تھے، غداروں کی اولاد تیری کیا اوقات ہے کہ تو ہم سے ہمارا ملک چھوڑنے کیلئے کہے’۔

 

اس ٹویٹ سے ظاہر ہے کہ جاوید اختر کو کافی غصہ آیا ہوگا تبھی انہوں نے ایسے سخت الفاظ کا استعمال کیا ہے۔

loading...
loading...