اسلام مخالف الفاظ کی جنگ میں جاوید اختر بازی لے گئے

mmmm

حال ہی میں بھارت کی ریلائنس کمپنی کے سربراہ مکیش امبانی نے ہندو مذہب کی روایتی کہانی مہابھارت پر فلم بنانے کا ارادہ کیا۔ اس میں مرکزی کردار کے لئے عامر خان کا انتخاب کیا گیا۔ مختلف خبروں کے مطابق انٹرنیشنل ادیب اس کے سکرپٹ پر کام کرنے والے ہیں۔

عامر خان کے مطابق مہابھارت کی کہانی میں ان کا پسندیدہ کردار ‘کارنا’ ہے۔ لیکن بہت سی افواہوں کے مطابق وہ اس میں ‘کرشنا کا کردار ادا کرنے والے ہیں۔ البتہ اس بات کی تصدیق عامر خان یا مکیش امبانی میں سے کسی نے بھی نہیں کی۔ لیکن جیسے ہی ٹویٹر پر یہ افواہیں پھیلنا شروع ہوئیں، بہت سے لوگوں نے عامر خان کے ‘کرشنا’ بننے پر سوال اٹھانے شروع کردیئے۔

معروف بھارتی شاعر جاوید اختر نے اس ساری صورتحال میں دخل اندازی کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ یہ فرقہ واریت پھیلانے کی ایک احمقانہ حرکت ہے۔

ایک فرانسیسی صحافی نے ہندوؤں سے سوال کیا کہ ایک مسلمان اداکار ‘کرشنا’ کا کردار کیسے نبھا سکتا ہے؟ جوابی ٹویٹ میں جاوید اختر نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے یاد دلایا کہ مہابھارت کے فرانسیسی ورژن  میں ایک عیسائی اداکار نے کرشنا کا کردار ادا کیا تھا۔

French-born journalist Francois Gautier criticised and slammed Hindus for letting this happen. “You scoundrel...

 اس کے بعد ٹویٹر صارفین اور جاوید اختر کے درمیان تنازعہ چھڑ گیا۔ لوگوں نے جاوید اختر اور عامر خان کو اسلامی انتہا پسند قرار دیا۔

When people slammed Javed Akhtar for being an 'Islamist.' 

جاوید اختر اس بات کا جواب نہ دیتے ایسا ہونا ناممکن تھا۔ انہوں نے بر صغیر کے معروف صوفی شخصیات اور شعراء کے نام یاد دلاتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر فرقہ واریت ہے جسے ان کے ملک میں پھیلایا جا رہا ہے۔

ایک اور تنقیدی ٹویٹ میں جاوید اختر سے پوچھا گیا کہ کیا مسلمان کسی ہندو کو حضرت محمد ﷺ کا کردار ادا کرنے دینگے؟ جس پر جاوید اختر نے اسے کرارے جواب سے نوازتے ہوئے کہا کہ وہ کسی مسلمان کو بھی ان کا کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔

ایک صارف نے ان سے پوچھا کہ کیا انہیں ہندو مذہب میں کرشنا اور رام کی اہمیت کا اندازہ ہے؟  جس کے جواب میں جاوید اختر نے کہا کہ اسے یہ بات پتا نہیں ہے کہ بہت سے لوگ ہیں جو کوئی عقیدہ نہ رکھنے کے باوجود ہر مذہب کی عزت کرنا جانتے ہیں۔

کسی نے کہا کہ جاوید اختر مسلمانوں کا وہ حصہ ہیں جو لادینیت کی تبلیغ کرتے ہیں تاکہ دوسرے مذاہب کو بے معنی اور کمزور ثابت کر سکیں۔ جاوید اختر کا جواب ایک بار پھر لا جواب تھا کہ کیا وہ اس فرانسیسی صحافی کو اپنا پیشوا مانتے ہیں؟

آخر میں ایک ٹویٹ آیا کہ  جتنی بھی مسلمان شخصیات کا نام جاوید نے لیا وہ سب غلطی سے ہندوستان میں پیدا ہو گئے تھے۔ جس کے بعد جاوید اختر نے اس جنگ کا اختتام یہ کہتے ہوئے کیا کہ ایسے لوگوں کا کوئی علاج نہیں اور انہیں پاگل خانے میں داخل ہونے کی ضرورت ہے۔

loading...
loading...