ملیکا شراوت بھی جنسی ہراسگی کے خلاف بول اٹھیں

mm

بولی وڈ کی بولڈ اداکارہ ملیکا شراوت نے انڈسٹری میں جنسی ہراسانی کی تصدیق کردی۔ انہوں نے ایک اور پنڈورا باکس کھولتے ہوئے بتایا کہ ہدایت کاروں کی خواہشات پوری نہ کرنے پر انہیں فلموں سے محروم رہنا پڑا۔ 

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملیکا شراوت کا کہنا ہے کہ ‘مجھے بھی کئی بڑے پراجیکٹس سے اس لئے نکالا گیا کہ میں نے ہدایتکاروں کی جنسی خواہشات پوری نہ کیں’۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘مجھے یہ تک سننے کو ملا کہ جب آپ پردے پر تمام سین ریکارڈ کرسکتی ہیں تو پردے کے پیچھے کرنے میں کیا اعتراض ہے’۔

بولی وڈ کی بے باک اداکارہ نے کہا کہ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہمارے ملک میں عورت سے کس طرح کا برتاؤ رکھا جاتا ہے، یہاں مرد ذہنی طور پر اتنے آزاد ہیں کہ وہ کسی بھی اداکارہ کے کردار کا فیصلہ فلم کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے کرلیتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھ پر بہت سے الزامات لگائے گئے اگر آپ چھوٹی سکرٹ پہن لیں، اسکرین پر کسی کا بوسہ لے لیں تو آپ ایک گھٹیا خاتون کہلاتی ہیں جب کہ مرد اس کیفیت سے مکمل آزاد ہوتے ہیں۔

اس سے قبل بولی وڈ کی معروف کوریوگرافر سروج خان نے بھی جنسی ہراسانی کا ذمہ دار خواتین کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ لڑکی پر ہے کہ وہ کیا چاہتی ہے؟ اگر اس کے پاس فن ہے تو وہ کیوں خود کو بیچے گی؟ جبکہ اداکارہ اور آئٹم گرل راکھی ساونت نے بھی کہا تھا کہ فلم انڈسٹری میں ہر موڑ پر جنسی کرپشن ہے۔

گزشتہ دنوں دپیکا پاڈوکون نے بھی جنسی ہراسانی پر بولتے ہوئے شرمناک رازوں سے پردہ اٹھایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیریئر کی ابتداء میں چہرے اور جسم کے دیگر اعضاء کی پلاسٹک سرجری کے مشورے دیئے گئے، جو ان کے خیال میں سب سے بدترین تھا۔ اداکارہ نے اعتراف کیا تھا کہ انہیں سب سے بہترین مشورہ ان کے والد نے دیا تھا، جنہوں نے ان سے محنت اور لگن سے اداکاری کرنےکا کہا۔

اس سے قبل 2014 میں اداکارہ نے ڈپریشن میں مبتلا ہونے سے متعلق اعتراف کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔ انہوں نے 2014 میں اعتراف کیا کہ وہ ڈپریشن یعنی ذہنی پریشانی اور الجھن میں مبتلا ہیں، جس وجہ سے انہیں متعدد برے خیالات آتے ہیں۔ بعد ازاں اداکارہ نے 2015 میں ڈپریشن میں مبتلا افراد کے لیے فلاحی ادارہ ” لائف اینڈ لو فاؤنڈیشن” بھی کھولا تھا،جو تاحال بھارت بھر میں ڈپریشن میں مبتلا افراد کے لیے کام کر رہا ہے۔




Type a

loading...
loading...