سلمان خان اور کالے ہرن کی کہانی کب اور کیسے پیش آئی؟

فائل فوٹو

فائل فوٹو

جودھ پور : نایاب کالے ہرن شکار کیس میں بولی وڈ اسٹار سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے5 سال قید اور10 ہزار روپے جرمانے کی سزاسنادی گئی جبکہ سیف علی خان،سونالی باندرے،تبواورنیلم کوبری کردیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست جودھ پور کی عدالت میں بھارتی اداکار سلمان خان کےخلاف نایاب کالے ہرن کے شکار کیس کی سماعت ہو ئی۔ اس موقع پر عدالت کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔

عدالت نے 20 سال بعد نایاب ہرن کے شکار کیس میں سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئےسزا سنائی جبکہ دیگر نامزد ملزمان سیف علی خان، سونالی باندرے، تبواورنیلم کوبری کردیا گیا۔

سلمان خان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے موکل کو تین برس سے کم کی سزا دی جائے۔

آئیں  اب ہم آپ کو اس پورے واقعہ  کا پس منظر بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ کہاں اور کب پیش آیا ۔

سال 1998 میں 2 اکتوبر کو پونم چند بشنوئی  اپنے گھر سے اس وقت باہر نکلے جب سلمان خان اپنے دیگر سلیبریٹی ساتھیوں کے ساتھ شکار کیلئے اس علاقے میں موجود تھے۔

بشنوئی نامی یہ شخص اس پورے واقعہ کا ایک چشم دید گواہ تھا ۔  جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلا تو انہوں نے تھوڑے فاصلے پر موجو د کنکنی گڈا روڈ پر کچھ گاڑیاں چلتی ہوئی دیکھیں جس کے بعد انہیں اس بات کا خیال آیا کہ یہ لوگ یہاں کالے ہرن کے شکار کیلئے آئے ہیں۔

یہی خیال لے کر وہ اپنے پڑوسیوں اور ارد گرد کے لوگوں کو پکارنے لگے جس کے بعد وہاں  کہ رہنے والے کچھ لوگوں نے اپنی موٹر سائیکل پر گاڑی کا پیچھا کیا۔

سلمان خان نے کنکنی گڈا روڈ سے دائے جانب ایک جگہ گاڑی روکی جو جنگل کا ایک حصہ تھا اور وہیں کالے ہرن موجود تھے۔

جب بوشنوئی جائے وقوعہ پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں ایک جپسی گاڑی  موجود ہے جس میں ڈرائیونگ سیٹ پر سلمان خان بیٹھے تھے جب کہ ان کے ساتھ سیف علی خان اور پیچھے تین  اداکارہ سونالی باندرے، نیلم اور تبو بیٹھی ہوئی تھیں۔

پونم بوشنوئی کا کہنا تھا کہ  انہوں نے دیکھا کہ پیچھے بیٹھے سلیبریٹیز سلمان خان کو کالے ہرن کو گولی مارنے کا بار بار کہہ رہے تھے جس کے بعد ان میں سے کسی ایک نے سلمان کے ہاتھ بندوق پکڑادی۔

پونم اور ان کے ساتھیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے اسٹارزکو روکنے کی کوشش بھی کی اور انہوں نے ‘شکاری شکاری’ بول کر شور بھی مچایا البتہ  جب تک سلمان خان کالے ہرن کو گولی مار چکے تھے۔

جس کے بعد پونم اور ان کے ساتھی  سلیبریٹیز کی گاڑی کا پیچھا نہ کرسکے اور اسی وجہ سے اس کیس کو اتنا طول دیاگیا۔

پونم کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ پورا حادثہ چاند کی روشنی میں دیکھا جبکہ سلیبریٹیز کا یہ کہنا تھا کہ رات کے ایک بج کر 38 منٹ تک چاندکی روشنی جا چکی تھی اور  یہ کیسے ممکن ہے کہ وہاں کے رہنے والوں نے دیکھ  لیا کہ شکاری کون تھا۔

loading...
loading...