اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

فائل فوٹو

فائل فوٹو

عالمی مالیاتی فنڈ سے معاہدے کے اثرات کا سلسلہ جاری، اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ کردیا، بنیادی شرح سود سوا بارہ فیصد ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے، آئندہ مالی سال مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی کڑی شرائط، اسٹیٹ بینک نے شرح سود ڈیڑھ فیصد بڑھادی۔ بنیادی شرح سود بارہ اعشاریہ دو پانچ فیصد ہوگئی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق ٹیکس وصولی میں کمی، بجٹ سے بڑھ کر سودی ادائیگیاں، امن و امان سے متعلق اخراجات، جولائی سے مارچ تک مالیاتی خسارہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر دس مئی تک کم ہو کر آٹھ ارب اسی کروڑ ڈالر رہ گئے۔ مارچ سے اب تک شرح مبادلہ میں 5.93فیصد کمی آئی۔

رواں مالی سال معاشی نمو سست ہونے کی توقع ہے، جس کی وجہ زراعت اور صنعت کی پست نمو ہے۔

 مہنگائی کے حالیہ ماہ بہ ماہ بلند اعدادوشمار شرح مبادلہ میں حالیہ کمی مالیاتی خسارے کی بلند سطح اور یوٹیلٹی نرخوں میں ممکنہ ردوبدل کے پیش نظر اکیس مئی سے پالیسی ریٹ ڈیڑھ فیصد اضافے سے بارہ اعشاریہ دو پانچ فیصد کیا جا رہا ہے۔

loading...
loading...