پاکستان کرکٹ بورڈ میں تبدیلی کا آغاز، سینئر کھلاڑی سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم

pcbimagee

پاکستان کرکٹ بورڈ میں تبدیلیوں کے دور کا آغاز ہوگیا۔ پہلے چیف سلیکٹر انضمام الحق سے بڑی آسانی سے عہدہ  چھڑوایا۔پھر ہیڈ کوچ سمیت کوچنگ اسٹاف کی بھی چھٹی کی اور اب لگتا یوں ہے کہ بورڈ نے سینئر کھلاڑیوں سے بھی جان چھڑانے کی ٹھان لی ہے۔

 پی سی بی نے سیزن 2019-20 کیلئے 19 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیا ہے جنہیں 3 کٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔اس کے برعکس گزشتہ برس ان کھلاڑیوں کی تعداد 33 تھی اور انہیں 5 کیٹگریز میں رکھا گیا تھا۔

تعداد کم کرنے کی یہ بھی وجہ ہوسکتی ہے کہ اگلے ایک برس میں پاکستان ٹیم نے صرف 6 ٹیسٹ، 9 ٹی ٹوئنٹی اور صرف 3 ون ڈے میچز کھیلنے ہیں۔

میچز کی تعداد دیگر ممالک سے بہت کم ہے جس سے انٹرنیشنل آپریشن کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انٹرنیشنل آپریشن کے سربراہ بیرون ملک دورے تو بہت کرتے ہیں لیکن آؤٹ کم کچھ نہیں آتا۔

چلئے سینٹرل کنٹریکٹ کی بات کرتے ہیں، سب سے بڑی حیرانی اس وقت ہوئی جب دو سینئر کھلاڑی شعیب ملک اور محمد حفیظ کو سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر کردیا گیا۔ گو کہ شعیب ٹیسٹ اور ون ڈے سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں لیکن ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں وہ مزید پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں۔

حالیہ کنٹریکٹ میں چند کھلاڑی ایسے بھی موجود ہیں جو صرف ایک فارمیٹ میں ہی پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہیں تو آپ نے کنٹریکٹ دے دیا مگر شعیب ملک کا شاید قصور یہ ہے کہ وہ اب بوڑھے ہوچکے ہیں یا انہیں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ سے بھی ریٹائرمنٹ کا اشارہ مل چکا ہے۔

دوسری جانب محمد حفیظ تو تینوں ہی فارمیٹس کھیل رہے ہیں۔ انہیں سی کیٹگری کے بھی قابل نہیں سمجھا، شاید بورڈ پروفیسر کو کچھ اور ہی سمجھانا چاہتا ہے کہ آپ کی عمر 38 برس ہوگئی اب آپ بھی گھر کا راستہ لیں، کب تک بورڈ کے پیسوں سے اپنا بینک بیلنس بھرتے رہیں گے۔

ان دونوں کے ساتھ چند دیگر کھلاڑیوں پر بھی چھری چلی، جس میں سب سے پہلے جنید خان ہیں جنہیں ورلڈکپ کے ابتدائی اسکواڈ میں رکھنے کے بعد وطن واپس بھیج دیا گیا اور شاید انہیں اپنے ٹوئٹر احتجاج کا ہی صلہ ملا۔ورلڈکپ اسکواڈ کا حصہ جارح مزاج بلے باز آصف علی اور سرپرائز پیکج جو کسی نے دیکھا ہی نہیں محمد حسنین کو بھی سین سے آؤٹ کردیا گیا۔

اس کے ساتھ آل راؤنڈر فہیم اشرف جن پر پی سی بی نے دو سال خوب پیسے لگائے آخر میں وہ کھوٹا سکا ثابت ہوئے، ناقص پرفارمنس پر انہیں پہلے ورلڈکپ اور اب سینٹرل کنٹریکٹ کھلاڑیوں سے ہی باہر کردیا گیا۔

چلیے اب سینٹرل کنٹریکٹ کھلاڑیوں کی بات ہوجائے، پی سی بی کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کی فٹنس اور ان کی کارکردگی کو دیکھ کر سینٹرل کنٹریکٹ دیئے گئے ہیں۔

پہلے اے کیٹگری پر نظر ڈالتے ہیں، اس کیٹگری میں تین کھلاڑیوں کو رکھا گیا ہے جنہیں ماہانہ گیارہ لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ ان میں سرفہرست کپتان سرفراز احمد ہیں جن کی بطور کھلاڑی پرفارمنس کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے تاہم اے کیٹگری میں ان کی شمولیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ انہیں قیادت سے سائیڈ لائن نہیں کیا جارہا اور کم از کم دو فارمیٹس کا کپتان برقرار رکھا جائے گا۔

اے کیٹگری میں بابراعظم کو بھی رکھا گیا ہے اور یقیناً وہ اس کے مستحق بھی ہیں، گزشتہ ایک سال میں انہوں نے پاکستان کیلئے بہترین پرفارمنس دی، شاید انہیں مستقبل قریب میں کپتان بھی بنایا جاسکتا ہے۔

اے کیٹگری میں تیسرے کھلاڑی ہیں یاسر شاہ جو صرف ٹیسٹ میچوں میں ہی ان ایکشن ہوتے ہیں۔ لیگ اسپنر کو وائٹ بال کرکٹ میں بارہا مواقع دیئے گئے لیکن وہ موثر ثابت نہ ہوئے، ایک فارمیٹ کھیلنے والے کو اے کٹیگری میں رکھنا، بڑا سوالیہ نشان ہے۔

بی کیٹگری میں آٹھ کھلاڑیوں کو رکھا گیا ہے جنہیں ماہانہ تنخواہ ساڑھے سات لاکھ روپے دی جائے گی، اس کیٹگری میں اسد شفیق، اظہرعلی، حارث سہیل، امام الحق، محمد عباس، شاداب خان، شاہین شاہ آفریدی اور وہاب ریاض شامل ہیں، حارث، امام، شاہین، عباس اور وہاب کو ترقی دی گئی ہے۔

حیران کن بات یہ کہ جو کھلاڑی دو سال سے آپ کے پلان میں نہیں تھا (ہم بات کررہے ہیں وہاب ریاض کی) جن سے مکی آرتھر خوش نہیں تھے، شاید اس لیے وہ ٹیم سے دور رہے لیکن اب انہیں اچانک پلان کا حصہ بنادیا گیا ہے۔

عابد علی، حسن علی، فخر زمان، عماد وسیم، محمد عامر، محمد رضوان، شان مسعود اور عثمان شنواری کو سی کیٹگری دی گئی ہے جنہیں ماہانہ ساڑھے پانچ لاکھ روپے ملیں گے۔

فخرزمان، حسن علی کے ساتھ محمد عامر کی بھی تنزلی ہوئی ہے جو ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرچکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے سیٹ اپ کے پلان میں شامل 19 کھلاڑی، پاکستان کو کتنی فتوحات دلاتے ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

loading...
loading...