نیٹ رن ریٹ یا گاربیج؟

sarf

!!!!!رن ریٹ گاربیج ( کوڑا کرکٹ) ہے

!!!!رن ریٹ قابل نفرت ہے

ارے ارے یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ یہ الفاظ سابق انٹرنیشنل کرکٹرز اور کرکٹ ماہرین کے ہیں۔

ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بدترین پرفارمنس کا بھوت پورے ایونٹ کے دوران پاکستان ٹیم سے چمٹا رہا۔ ویسٹ انڈیز کےخلاف 105 رنز پر ڈھیر ہونے اور پھر ہدف صرف 14 اوورز میں پورا ہونے سے پاکستان کا رن ریٹ اس حد تک گرگیا کہ پورے ٹورنامنٹ کے دوران منفی سے مثبت میں تبدیل نہ ہوسکا۔ آسٹریلیا اور بھارت سے شکست اور سری لنکا کے خلاف میچ بارش کی نذر ہونے سے گرین شرٹس کو بہت نقصان ہوا لیکن ٹیم کے سیمی فائنل تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ رن ریٹ بنا۔ گزشتہ ٹورنامنٹس میں ہوتا یہ آیا تھا کہ لیگ مرحلے کے اختتام یا سیمی فائنل میں ٹائی کی صورت میں ایک ٹیم کے آگے جانے کا فیصلہ اس طرح کیا جاتا تھا کہ اگر دو ٹیمیں پوائنٹس پر برابر ہوجائیں تو پہلے یہ دیکھا جاتا تھا کہ دونوں میں سے میچز کس نے زیادہ جیتے۔ اگر یہاں بھی معاملہ برابری کا ہو تو پھر دونوں کے ہیڈ ٹو ہیڈ میچ کا نتیجہ اور آخر میں رن ریٹ۔ لیکن اس مرتبہ آئی سی سی نے ورلڈ کپ کے قواعد وضوابط میں کچھ تبدیلیاں کردیں۔ اس مرتبہ ٹیم کی اگلے مرحلے تک رسائی کا پیمانہ کچھ یوں تھا۔

جس ٹیم نے لیگ مرحلے میں زیادہ میچز جیتے۔

پھر بھی فیصلہ نہ ہو تو جس ٹیم کا رن ریٹ بہتر ہو وہ ٹیم آگے جائے گی۔

اگر رن ریٹ بھی برابر ہو تو پھر ہیڈ ٹو ہیڈ میچ کا نتیجہ دیکھا جائے گا۔

پاکستان ٹیم بھی رن ریٹ کے گورکھ دھندے میں پھنس گئی اور لیگ میچ میں نیوزی لینڈ کو شکست دینے کے باوجود سیمی فائنل میں قدم نہ رکھ سکی۔ حالانکہ پاکستان نے لیگ مرحلے میں دو سیمی فائنلسٹ ٹیموں (انگلینڈ اور نیوزی لینڈ) کو ہرایا، اپنے آخری چار میچز میں فتوحات سمیٹیں۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ نے آخری تین میچز میں شکست کھائی جبکہ اپنے سے کئی درجے کمزور ٹیموں افغانستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقا کو ہرایا۔بھارت سے میچ بارش کی نذر ہونے پر ایک قیمتی پوائنٹ ملا جو کیویز کےلئے خوش قسمتی کی علامت بن گیا۔ اگر نیوزی لینڈ بھارت کا میچ ہوجاتا تو شاید آج نیوزی لینڈ کی جگہ پاکستان سیمی فائنل کی چوتھی ٹیم ہوتی۔

اب آتے ہیں سابق کرکٹرز اور ماہرین کی طرف جنہوں نے رن ریٹ کو کوڑا کرکٹ قرار دیا۔

سابق جنوبی افریقی کپتان گریم اسمتھ نےٹوئٹ میں کہا کہ انہیں رن ریٹ سے نفرت ہے۔

سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کچھ اس انداز میں کیا۔

“میں اگلے ورلڈ کپ کےلئے پہلے پوائنٹس، پھر ہیڈ ٹو ہیڈ اور پھر ڈک ورتھ لوئس سسٹم کو ٹیموں کے آگے جانے کے پیمانے کے طور پر دیکھنا پسند کروں گا۔ رن ریٹ کوڑا کرکٹ ہے۔”

معروف ویسٹ انڈین فاسٹ بولر مائیکل ہولڈنگ بھی یہ کہے بنا نہ رہ سکے کہ ہیڈ ٹو ہیڈ کے بجائے رن ریٹ کو پیمانہ بنانا ناانصافی ہے۔ بھارتی کرکٹر راہول ڈریوڈ اور سنجے منجریکر نے بھی سوشل میڈیا پر پاکستان ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گرین شرٹس نے ایک دو میچز کےعلاوہ دیگر ٹیموں کےخلاف بہت اچھی کارکردگی دکھائی، پاکستان ٹیم سیمی فائنل کھیلنے کی حقدارتھی۔

پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھرنےبھی رن ریٹ کے بجائے ہیڈ ٹوہیڈ میچ کے نتیجےکے فارمولے کی حمایت کی۔ان کا کہنا تھا کہ قواعد پرنظرثانی کی ضرورت ہے، پہلے فتوحات کی تعداد پھرہیڈ ٹوہیڈ اوراگر تین ٹیموں کے پوائنٹس برابر ہوں تو پھر رن ریٹ ایک ٹیم کا فیصلہ کرسکتاہے۔ رن ریٹ نے ہمیں یہ نقصان پہنچایا کہ ہم نے ایک میچ برا کھیلا اورپھر پورے ٹورنامنٹ کے دوران اس کے اثر سے باہر آنے کی جدوجہد کرتے رہے۔

کرکٹ کمنٹیٹر ایلن ولکنز کے مطابق ہیڈ ٹو ہیڈ سے پہلے رن ریٹ کو ٹائی بریکر بنانا ناانصافی ہے۔ پاکستان ٹیم نیوزی لینڈ کو شکست دے کر بھی اس سے پیچھے رہی۔

خیر جو ہونا تھا وہ ہوگیا، پاکستان ٹیم ورلڈ کپ کھیل کر وطن واپس لوٹ چکی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ کپ کے قواعد وضوابط پر رضا مندی ظاہر کرتے وقت یہ سوچا بھی نہیں ہوگا کہ اس میں شامل کچھ چیزیں ان ہی کی ٹیم کے خلاف جائیں گی۔ بہرحال انٹرنیشنل کرکٹرز اور ماہرین کا ردعمل دیکھتے ہوئے کرکٹ کی گورننگ باڈی کو اپنے ٹورنامنٹس کے قواعد وضوابط میں تبدیلی لانا ہوگی تاکہ آئندہ پاکستان کی طرح کوئی اور ٹیم رن ریٹ کی وجہ سے آگے بڑھنے کے حق سے محروم نہ رہ جائے۔

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے،  ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

loading...
loading...