سرفراز احمد کا دشمن کون؟

capt

انگلینڈ میں جاری ورلڈکپ میں پاکستان کو شکست پر شکست ہورہی ہے اور بھارت سے ہارنے  کے بعد تو تنقید کی توپیں قومی کھلاڑیوں کا رخ کیے ہوئے ہیں، ناقص کارکردگی پر ہر طرف سے انگلیاں اٹھ رہیں ہیں۔کوئی کہتاہےکہ ٹیم منیجمنٹ اورسلیکشن کمیٹی کو فارغ کیا جائےتو کوئی کہتا ہےکپتان سرفراز احمد کوہی ہٹادیا جائے۔ سب ہی ٹیم کی کارکردگی کو کوس رہے ہیں۔ آن دی فیلڈ تو کھلاڑیوں کی غلطیاں سب کے سامنے ہیں “آف دی فیلڈ” بھی “آل از ویل” نہیں ہے۔

ناکامی کی ذمہ داری صرف اور صرف کپتان پر عائد ہوتی ہے کیونکہ میدان میں کپتان نے ٹیم کو لڑانا ہوتا ہے لیکن گراؤنڈ سے باہر آئیں تو ان کی چلتی نہیں ہے۔ لگتا یوں ہے کہ سرفراز احمد صرف نام کے ہی کپتان ہیں۔ماضی میں پاکستان کے کپتانوں کی طرح سرفراز کی من مانیاں نہیں چل رہیں۔ سابق کپتان انضمام الحق کو لے لیں، وہ اپنی مرضی کی ٹیم کھلاتے تھے اور سب ان کا فیصلہ مانتے تھے لیکن یہاں کہانی ہی کچھ اور ہے۔ پہلے کپتان صاحب، مکی آرتھر کے ہاتھ میں کھیل رہے تھے اب چیف سلیکٹرانضمام الحق بھی اپنے فیصلے صادرکررہے ہیں اور سرفراز صاحب دونوں کے درمیان سینڈوچ بنے ہوئے ہیں۔ چاہے بات ہو پندرہ رکنی اسکواڈ مرتب کرنے کی، ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ یا بولنگ کرنے کی یا پھر فائنل الیون کیا کھلانی ہے؟ سب فیصلے آرتھر اور انضی ہی کرتے ہیں۔

بھارت کیخلاف اہم میچ میں سرفراز آصف علی اور محمد حسنین کو موقع دینے کے حق میں تھے لیکن کوچ اور چیف سلیکٹر شعیب ملک اور عماد وسیم کو کھلانے پر تلے ہوئے تھے۔ جس کا پاکستان کو کافی نقصان پہنچا اور سرفراز احمد بچارے اپنی کپتانی بچانے کےلئے ان کے فیصلوں پر لبیک کردیتے ہیں۔ یہ خبریں ہیں کہ ٹیم میں گروپنگ ہے کھلاڑی جان بوجھ کر پرفارم نہیں کررہے اور یہ سب سرفراز کے ناک کے نیچے ہی ہورہا ہے لیکن سرفراز احمد ہیں کہ نہ جانے کیوں دبے ہوئے ہیں، لب کو سیا ہوا ہے، دل کی بات زبان پرنہیں آرہی، دباؤ کا شکار ہیں، فیلڈ میں جمائیاں بھی لیتے ہیں اور یہی چیز سرفرازاحمد کی اصل دشمن ہے۔

سابق کپتان اور بانوے کی فاتح ورلڈکپ ٹیم کا حصہ معین خان بھی یہی کہتے ہیں اتنا کچھ ہونے کے باوجود اگر سرفرازاحمد نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں تو وہ قیادت کے قابل ہی نہیں کیونکہ آخر میں سارا ملبہ کپتان پر ہی گرنا ہے۔سابق وکٹ کیپرراشد لطیف کہتے ہیں 15 لڑکےتوشطرنج کے مہرے ہوتے ہیں اصل کھیل تو کوئی اور کھیل رہا ہوتا ہے۔ دیکھتے ہیں کپتان کب تک اپنے دشمن یعنی خود اپنے خلاف اعلان بغاوت کر کہ پاکستان ٹیم کی ڈوبتی نیا کو پار لگانے کےلئے بڑے فیصلے کرتے ہیں۔ کیونکہ بات ہار جیت کی نہیں بلکہ ان دی فیلڈ لڑتے ہوئے نظر آنے کی ہے۔ قوم سب بھول جاتی ہے وہ 1996 کا بھارت سے ہارا ہوا کوارٹر فائنل بھی بھول جاتے ہیں جس میں کپتان وسیم اکرم نے اچانک نہ کھیل کر سب کو حیران کردیا تھا۔ اور 1999 کے فائنل میں بارش اور پچ کی کنڈیشن دیکھنے کے باوجود وسیم اکرم کے پہلے بیٹنگ کرنے کے فیصلے کو بھی معاف کردیتے ہیں۔ 2003 کی وقار یونس کی کپتانی میں شکست کو بھی بھول چکے ہیں۔ اور عظیم سلیکٹر انضمام الحق کی کپتانی میں 2007 میں آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کو بھی لوگ فراموش کرچکے۔ 2011 میں آفریدی کی کپتانی میں بھارت سے سیمی فائنل ہارنا بھی بھول چکے اور 2015 میں مصباح الحق کی کپتانی میں ورلڈ کپ میں شکست بھی قوم کو یاد نہیں۔ قوم کو بس یاد ہے تو عمران خان کی کپتانی میں جیتا 1992 کا ورلڈ کپ فائنل، 2009 میں یونس خان کی کپتانی میں جیتا ٹی ٹوئنٹی کا میلہ اور 2017 میں سرفراز احمد کی کپتانی میں جیتی یادگار چمپئنز ٹرافی۔

اب سرفراز احمد کو خود کو کپتان ثابت کرنا پڑے گا اور خود سے جاری جنگ جیت کر پاکستان ٹیم کو جیت کے ٹریک پر لانا ہوگا ورنہ پاکستان کرکٹ کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنا ناممکن ہوجائے گا۔

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے،  ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

loading...
loading...