ہم عہد پلاسٹک میں جی رہے ہیں

q

ہم عہد پلاسٹک میں جی رہے ہیں ۔ ہم پلاسٹک کھا رہے ہیں ، پلاسٹک پی رہے ہیں ، پلاسٹک بو رہے ہیں ، پلاسٹک پہن رہے ہیں ، پلاسٹک کی بو میں سانس لے رہے ہیں ۔ پلاسٹک ہمارے جسموں میں داخل ہوچکا ہے ۔ اور کیوں نہ ہو، ہم بازار سے دودھ ، دہی ، سالن ، کھلا جوس پلاسٹک کی تھیلیوں میں خرید کر لاتے ہیں۔ پلاسٹک کی تھیلیوں میں کھانے پینے کی اشیاء ڈالنے سے اس پلاسٹک کے خطرناک اجزاء اس میں شامل ہوکر ہمارے جسم کا حصہ ن رہے ہیں ۔ صبح سویرے کھلی ہوا میں جلائے جانے والے۔کچرے کے ڈھیر جو صفائی کے نام پر جلائے جاتے ہیں ، ان میں 90فیصد کچرا پلاسٹک کی تھیلیوں میں ہوتا ہے، اور یہ زہریلا دھواں ہمارے سانس میں شامل ہوتا ہے ۔ گھر میں ہمارے برتن اب صرف پلاسٹک کے رہ گئے ہیں۔صبح سب سے پہلے پلاسٹک کو برش ہی ہمارے دانت صاف کرنے کے کام آتا ہے ۔ دوپہر میں گھر سے لے جانے والا کھانا اکثر پلاسٹک کی تھیلیوں میں لے جایا جاتا ہے جو گرم پانی میں ڈال دی جاتی ہیں تاکہ کھانا گرم ہوجائے۔گرم گرم بریانی تو اب پلاسٹک کی تھیلیوں میں ہی پیک ہوکر آپ کے پاس پہنچتی ہے ۔ پانی تو آپ پیتے ہی ہیں نا، منرل واٹر صاف پانی، جو پلاسٹک کی بوتلوں میں آپ تک پہنچتا ہے، مشروب ہوں یا کھانےپینےکی اورکوئی چیزاب پلاسٹک کی بوتل یادیگراشیاءمیں آپ تک پہنچی ہے۔حال ہی میں پانی کی پلاسٹک بوتلوں میں پلاسٹک کےاجزاء شامل ہونےکےحوالے سے ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک بوتل میں تقریباً 10.4مائیکرو پلاسٹک ذرات شامل ہوجاتے ہیں ۔ ان ذرات میں پولی پروپائلین ، نائلون اور پولی تھائی لین شامل ہوتے ہیں ۔ زمین میں دفن ہونے والی تھیلیاں جوہزاروں برس میں بھی تحلیل نہیں ہوتی اپنے اجزاء ز میں میں منتقل کر رہی ہیں۔وہی زمین جو ہمارے لیے فصلیں اورپھل اگارہی ہے۔ جانور جن کا ہم گوشت کھاتے ہیں ، ان کے جسموں سے پلاسٹک کی تھیلیاں نکل رہی ہیں کہ وہ ان کے نظام ہضم سے ماورا ہیں ۔ سمندری مخلوق مچھلیاں بھی ان پلاسٹک تھیلیوں سے محفوظ نہیں ہیں ۔ ہم پلاسٹک لگا رہے ہیں ، جی ہاں ۔ ہماری ضرورت کی بہت ساری اشیاء میں پلاسٹک شامل ہوتا ہے جیسے شیمپو، میک اپ سامان، شیونگ جیل، دانتوں کی پیسٹ اور اس طرح کی درجنوں اشیا میں مائیکرو پلاسٹک استعمال کیا جاتا ہے ۔ تو اب آپ کو یقین آگیا کہ ہم عہد پلاسٹک میں جی رہے ہیں۔

پلاسٹک بیگ/ شاپرتو ہماری زندگی کا لازمی جز ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہم ہر سال 55 ارب پلاسٹک تھیلیاں استعمال کرتے ہیں اور ہر سال ان کی تعداد 15 فی صد بڑھ رہی ہے ۔ لگ بھگ چار دہائی گذرنے کےبعدہمیں احساس ہونےلگا ہے کہ شاپر ہماری جڑوں میں بیٹھ گیا ہے اور اس نے ہر سمت تباہی پھیلادی ہے ۔ سب سے پہلے تو یہ پتہ چلا کہ شاپنگ بیگ کو ٹھکانے لگانا بہت مشکل عمل ہے ۔ یہ پانی میں 10تا 20 سال کے عرصے میں حل ہوتا ہے جبکہ زمین میں گلنے گھلنے میں پانچ سو برس تک لگا سکتا ہے ۔ جب شہر اور جنگلوں میں ہر سال کھربوں پلاسٹک بیگ بننے اور سڑکوں پر بکھرے نظر آنے لگےتولوگوں کو احساس ہوا کہ شاپر ماحول کی صفائی ستھرائی اور خوبصورتی برباد کردیتے ہیں ۔ جب ندی نالے شاپر سے بھر گئے اور بارشوں سے سڑکیں زیر آب آگئی ہیں ۔ یہ شاپر گٹر کی نالیوں میں پھنس جاتی ہیں جس سے سیوریج کا نظام تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔سڑک پر ہر طرف اڑتی پھرتی ہیں ۔ کراچی میں کچرا اٹھانے کےلئے کروڑوں روپے کا فنڈ ہڑپ کرجانے کے باعث کچرا اٹھانے کا کم ہی رواج ہے ۔ عمومی طور پر یہ سڑک کنارے ہی جلادیا جاتا ہے ۔ کچرےمیں موجودپلاسٹک کی تھیلیاں جلنے سے زہریلا دھواں خارج ہوتا ہے جو شہریوں کے لئے خوفناک بیماریوں کاباعث بن رہا ہے ۔ پنجاب نے پلاسٹک کی تھیلوں پرپابندی کئی سال پہلےلگائی تھی اور اس پرسختی سےعمل بھی ہوا، سندھ میں قانون پرعمل درآمد بہت ہی مشکل سےہوتا ہے ۔ اس لیے پورے ملک کےلئے پلاسٹک کی تھیلیاں یہیں سے سپلائی ہوتی ہیں ۔ 2000ء میں بنگلا دیش میں شدید بارشوں نے تباہی مچادی تھی ۔ تب سیوریج میں شاپر پھنس جانے کی وجہ سے بنگلہ دیشی شہروں میں سیلاب آگیا اور بہت سا جانی و مالی نقصان ہوا ۔ بنگلا دیشی حکومت نے شاپنگ بیگز کے استعمال پر پابندی لگادی ۔ بنگلا دیش پہلا ملک ہے جس نے شاپروں کا عام استعمال ممنوع قرار دیا ۔ پاکستان میں وادی ہنزہ میں انتظامیہ نے پلاسٹک کے شاپنگ بیگز کی تیاری اور خریدو فروخت پر پابندی لگاتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کی ہوئی ہے ۔ اب وادی میں جو شخص شاپر استعمال کرتے پکڑا جاتا ہے اسے بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔ سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ ایک پر عزم انسان ہیں ۔ ان توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اس معاملے پر کوئی رعایت نہیں کریں گے ۔ اگر سندھ میں پلاسٹک کی تھیلیوں کی تیاری کے کارخانے ہی بند کردیے جائیں تو مسئلہ 90 فیصد حل ہو سکتا ہے ۔ ہم کاغذ کی تھیلیوں کی مقامی صنعت کو فروغ دے سکتے ہیں ، کپڑے کے تھیلوں کا استعمال کرسکتے ہیں ۔ بنگلا دیش کی حکومت اپنے شہریوں کو بائیو ڈی گریڈ ایبل شاپنگ بیگ کے یونٹ لگانے کی خاطر مالی امداد دے رہی ہے ۔ ان یونٹوں میں گنے کے پھوک، کیساوا (آلو جیسی سبزی) کی جڑوں اور دیگر نامیاتی مواد سے شاپنگ بیگ بنتے ہیں ۔ یہ بیگ کئی بار استعمال ہوسکتے ہیں ۔ نیز جب ناکارہ ہوکر کوڑے میں پھینکے جائیں تو دو تین ماہ بعد تحلیل ہوجاتے ہیں ۔ ہمارے یہاں گنا اور گندم اہم فصلیں ہیں ۔ ان کی تلچھٹ بھی شاپنگ بیگ بنانے میں کام آسکتی ہے ۔ یوں شاپنگ بیگ بنانے والوں کو خام مال اپنے ملک ہی سےمیسر آئےگا ۔ بہت ساری کمپنیاں پلاسٹک کےکم سےکم استعمال بارےسوچ رہی ہیں ۔ اب ماحول دوست بیگ تیار کیےجارہےہیں جو پانی اور مٹی میں جذب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں شاپنگ بیگز سے ماحول کے نقصان کو بچانے کےلئے سمجھدار قوموں نے شاپنگ بیگز کے استعمال پر پابندی عائدکردی ہےاورکئی ملکوں میں دکان داروں کو پابند کیا گیا ہے اس کا متبادل تلاش کرلیں ۔ پولی تھین بیگز کو جلانے سے سانس کی بیماریاں پھیل رہی ہیں بلکہ اسکےدھوئیں سےلوگوں کو کینسر کا مرض بھی لاحق ہورہاہے جو ہماری آنکھوں، جلد اور نظام تنفس پر بری طرح سے اثر انداز ہوتا ہے ۔ پولیتھین کا بے دریغ استعمال خواتین میں بڑھتے ہوئے بریسٹ کینسر کی اہم وجہ بھی بن رہی ہے ۔ اس لیے اس کے استعمال کو ترک کرنا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

loading...
loading...