چھٹی کی بھی چھٹی ہوگئی

blog

موسم سرما کی تعطیلات ختم ہوگئیں، مگر اس کے ساتھ ہی ایک ایسی خبر ملی جس نے تعطیلات کی شیدائی اس قوم کو سوشل میڈیا پر بے لگام کر دیا ہے۔ جس کے منہ میں جو آرہا ہے کہے جارہاہے۔ کوئی سوچے سمجھے کیوں، اس بات پر غور کیسے کرے کہ اس کے لئے تو شاید حکومت کو ایک روزہ تعطیل کا اعلان کرنا چاہئے۔چھٹی ہو گی تو گھر بیٹھ کر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں گے کہ وزیرتعلیم نے’’ چھٹیاں‘‘ ہڑپ کرنے کا جواعلان کیا ہے وہ کس کے فائدے کے لئے ہے۔

قارئین،انتھک محنت اور اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے دن رات ایک کیے بغیر جس طرح کوئی فردترقی نہیں کرسکتا ، اسی طرح کوئی قوم دنیا کی نظروں میں با وقاراور قابل احترام اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک ہر فرد اور ادارے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے محنت نہیں کرتے ا ور ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے دن رات ایک نہیں کر دیتے۔ اگر جدید اور ترقی یافتہ معاشروں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہاں ترقی اور خوشحالی کے پیچھے وقت کی پابندی، نظم و ضبط اور احساسِ ذمہ داری موجود ہے جس سے ہم بدقسمتی سے واقف ہی نہیں۔

برا نہ مانیں تو یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اول تو ہم انفرادی فوائد کو نظر میں رکھتے ہیں اور اگر کسی گروہ اور ادارے سے منسلک ہو کر کوئی کام کر رہے ہیں تو وہاں بھی ہم سستی اور جان چھڑانے کی عادت ترک نہیں کرتے ۔ دوسری طرف ’’چھٹی‘‘ہماری من پسند چیز ہے۔ ۔ ہم وہ قوم ہیں جو سرکاری اور نجی اداروں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ایک سال میں کم از کم تین ماہ تو کسی نہ کسی بہانے ’’چھٹیاں‘‘ ضرور دے۔ موسمِ گرما کی تعطیلات، سرما کی چھٹیاں، فلاں ڈے،فلاں دن اور پھر وہ چھٹی تو کوئی چھین ہی نہیں سکتا جو کسی ادارے ملازم کو پالیسی کے مطابق دی جاتی ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیرتعلیم سندھ سردار شاہ کی زیر صدارت اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں سندھ کے تعلیمی اداروں میں یومِ کشمیراور یوم پاکستان، یومِ آزادی، شاہ عبداللطیف بھٹائی کا عرس اور جشن میلاد النبی کے موقع پر چھٹی نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تاہم یومِ کشمیر، یومِ پاکستان، یوم آزادی و دیگرمواقع پر تدریسی عمل معطل کرکے اس دن کی مناسبت سے طلبا کوآگاہی دی جائے گی۔ اس روز غیرتدریسی سرگرمیوں کے ذریعے اساتذہ اور ماہرین کی مدد سے نونہالان وطن کو ان ایام کی اہمیت اور ان کے اصل پیغام اور روح سے آگاہی دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیئے: موسم میں بسی خوشبو اور رنگ کہیں کھو گئے ہیں

یہ ایک اچھا اور لائق ستائش فیصلہ ہے۔ میری نظرمیں اب تک ان مواقع پر طالبعلم صرف اور صرف چھٹی کا مزہ لیتا رہا ہے اوراس شخصیت یا موقع کی بابت اس کی معلومات نہ ہونے کے برابررہی ہیں۔اجلاس میں مختلف دوسرے فیصلے بھی کئے گئے ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا پر والدین اور دیگر لوگوں نے اس پر اپنے اپنے انداز میں زیادہ تر تنقید ہی کی ہے۔ تاہم ان لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اس فیصلے کی اہمیت اور افادیت کوسمجھ کر اسے ایک مثبت تبدیلی قرار دے رہے ہیں ۔

یہ حقیقت ہے کہ ہم برسوں سے سستی، کاہلی اور آرام طلبی کے ایسے عادی ہیں کہ اب کوئی ایسا فیصلہ آسانی سے ہضم نہیں ہو گا،مگر یہاں میں والدین کی توجہ خاص طور پر چاہوں گی کہ کیا وہ اپنی اولاد کو ایک قابل اور باصلاحیت طالبعلم دیکھنے کے ساتھ باشعو راور،سمجھدار شہری نہیں بنانا چاہتے۔ کیا وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ان کے بچے ہی سے اس قوم کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔ کیا ہم برسوں تک جو غلطی کرتے رہے ہیں اسے جاری و ساری رکھا جانا چاہئے۔ غور کریں کہ موجودہ حالات اور دنیا میں جس تیزی سے تبدیلی آرہی ہے، اس میں ہم ایک طرف تو ذات پات، قوم قبیلوں میں بٹے ہوئے ہیں اور دوسری طرف ان تصورات اور نظریات سے جو کسی قوم کے پنبپنے اور ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرنے کے لئے درکار ہے سے بھی ناواقف ہیں۔ اندرونی اور بیرونی سازشوں کے ساتھ پارہ پارہ اور بٹی ہوئی قوم کس طرح محض سہولیات اور رعایتوں سے بہل سکتی ہے۔ اس کے لئے سرکاری سطح پر تعطیلات اور دیگر چھٹیوں کی اتنی اہمیت ہے کہ وہ اس کے لئے اپنے بچوں کو شعور اور آگاہی سے دور رکھ سکتی ہے تو پھر اسے بربادی اور تباہی کے لئے تیار رہنا ہی چاہئے۔

بہتر ہے کہ ہم محکمہ تعلیم کے اس فیصلے پر غور کریں اور اسے سراہتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کس طرح یہ قوم اپنے مسائل اور مشکلات کم کر کے اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی ہے اور ہماری نسلوں کا مستقبل ایک مضبوط اور بھاری بھرکم معیشت کے ساتھ محفوظ ہو سکتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم خود بھی جانیں اور سمجھیں، سیکھیں اور اپنے بچوں کو بھی سیکھنے دیں یہی ہماری فلاح اور نجات کا راستہ ہے۔

.نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں       

loading...
loading...