موسم میں بسی خوشبو اور رنگ کہیں کھو گئے ہیں

climate-change-3

کل یونہی بیتے دنوں کی یادیں تازہ کر رہی تھی، ذہن کے پردے پر بچپن اور لڑکپن کی کئی تصویریں ابھریں، اپنا زمانۂ طالبعلمی، سہیلیاں، ان کے ساتھ کھیل کود اور بے ضرر سی شرارتیں اور دیگر خوشگوار یادوں کے ساتھ شہر کا موسم اور وہ ماحول یاد آیا جس میں خوشبو اور رنگ شامل تھے جو اب کہیں کھو گئے ہیں، یوں ان خوشگوار یادوں کی جگہ دکھ اور افسوس مجھ پر حاوی ہو گیا۔

مجھے یاد ہے موسمِ گرما کے بعد سردی کا شور اور پھر بارشیں جو کم یا زیادہ تو ہوتی تھیں، مگر بادل کبھی یوں نہیں روٹھے تھے جیسے اب ہو رہا ہے۔ محکمۂ موسمیات کی پیشگوئیاں اور مون سون کا زور دونوں ہی دم توڑ چکے ہیں اور کراچی میں ابرِ رحمت نہیں برسا۔ اب جبکہ لوگ سرد ہواؤں کے منتظر ہیں تو عجیب معاملہ ہے۔ گرمی جیسے لوٹ آئی اور سورج جیسے سَروں پر آگیا ہے۔ موسم اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے صرف کراچی یا ملک کے دیگر علاقے ہی متاثر نہیں ہوئے ہیں بلکہ دنیا بھر میں اس وقت ماحولیاتی تغیرات اور زمین پر حدت میں اضافہ نہ صرف مسئلہ بن چکا ہے بلکہ اس حوالے سے سائنسدانوں اور ماحول دوست تنظیموں نے شدید تشویش اور خدشات کا اظہار کرتے ہوئے فوری توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

میں کراچی کے متوسط علاقوں کی گلیوں کا ذکر کروں تو ہر گھر کے باہر کیاری ہوتی تھی جس میں چھوٹے اور عام درختوں کے علاوہ مختلف پھل دار درخت بھی لگے ہوتے تھے۔ اس کے ساتھ خوش رنگ اور خوشنما پھولوں والے پودے موسم کے لحاظ سے اپنی بہار دکھاتے اور سبزہ آنکھوں کو بھلا لگتا تھا۔ اسی طرح سڑکوں کے اطراف میں، میدانوں میں بھی نیم، پیپل، برگد اور دوسرے درخت اپنے سائے میں ہر ایک کو خوش آمدید کہتے اور ان پر پرندے چہچہاتے، چڑیاں ڈالی ڈالی پھرتی اور کوئل، بلبل، طوطے میاں بھی نظر آجایا کرتے تھے۔ چنبیلی، موتیا اور بیلا کی خوشبو مجھے یاد ہے جو گھروں کے باہر کیاری میں مسکراتے تھے اور جناب حسین رنگوں والی قدرت کا شاہکار تتلیاں بھی ان پر منڈلاتی تھیں۔

وہ سب کیا ہوا؟ ہم انسانوں نے جو اس زمین پر سانس لیتے ہیں اور زندہ رہنا چاہتے ہیں، ان دوسرے جانداروں کو ان کی زندگی سے محروم کرنا شروع کر دیا۔ گھروں کے باہر کیاریوں کی جگہ کاریں کھڑی ہونے لگیں اور یوں سبزہ اجڑ گیا۔ میدانوں میں پلازہ بنے تو بڑے بڑے تناور اور سایہ دار درخت مشینوں سے کاٹ کر پھینک دیئے گئے۔ گھر میں رہنے کو جگہ چاہئے تھی تو صحن کو ختم کر کے کمرہ بنا دیا گیا اور وہاں دادا، نانا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پھل دار درخت کچھ نہ کرسکا، اسے ضرورت کھا گئی اور یوں بزرگوں کی یہ نشانی بھی مٹ گئی۔ خیر، یہ قصہ اس طرح بہت طویل ہو سکتا ہے، باتیں اور یادیں بہت سی ہیں۔ اس وقت ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تغیرات ایک بڑا مسئلہ ہیں اور پاکستان میں بھی اس حوالے سے موجودہ حکومت نے اقدامات کا اعلان کیا ہے اور اس پر عمل بھی کیا گیا ہے۔

کراچی کے معاشی حب ہونے کا ایک مطلب یہ بھی ہوگا کہ یہاں مشینوں کا راج ہے۔ یہ چھوٹی گاڑیوں اور ہیوی وہیکل ہو سکتی ہیں یاکسی کارخانے اور فیکٹری میں موجود بڑے بڑے پلانٹ اور گیس و تیل سے چلنے والی دیگر مشینری بھی ہو سکتی ہے جو فضا کو کثیف دھویں کے ساتھ شور سے بھی آلودہ کر رہی ہیں۔ دوسری طرف شہر کی شاہراہیں اور دیگر مقامات کنکریٹ کی عمارتوں کے ساتھ ان مختلف شکلوں کی مشینوں سے بھرتی جارہی ہیں اور ان پر درختوں اور گرین بیلٹ کی جگہ نہیں ہے جس سے ماحولیاتی حدت بڑھ رہی ہے اور موسم تلپٹ ہو گیا ہے جس سے مختلف بیماریاں اور امراض جنم لے رہے ہیں۔ اسی طرح خشک سالی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے ماحولیات کے حوالے سے اپنا پروگرام سیٹ کر رکھا ہے مگر اس پر بڑے پیمانے پر اور منصوبہ بندی کے تحت کام کرنا ہو گا۔ عوام میں بھی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے جبکہ درختوں کی کٹائی کے حوالے سے کوئی قانون بنانا ہو گا جس پر سختی سے عمل کیا جائے۔

کراچی کے ماسٹر پلان کی دستاویزات دیکھیں تو معلوم ہو گاکہ کراچی کے سات زون ترتیب دے کر ان علاقوں کی مٹی کے مطابق مختلف نباتات، پھول، بیلیں، درخت اور جھاڑیاں لگانے کی تجویز موجود ہے جن پر مقامی انتظامیہ اور اداروں کے ذریعے عملدر آمد کروانا ہو گا۔ ماحول اور نباتات سے متعلق ماہرین کی تعیناتی اور ان کی نگرانی میں لگائے گئے درختوں اور پودوں کی دیکھ بھال اور نشوونما کا عمل مستقل جاری رکھا جائے جس کے بعد ہی بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔

فقط ایک روزہ دورہ اور کسی بڑی شخصیت کے ہاتھوں پودا لگا کر اسے شجر کاری مہم کہہ کر بھول جانا سنجیدگی اور دانشمندی نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں شجر کاری کا سیزن سال میں دو بار آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پہلا سیزن جنوری کے وسط سے مارچ کے وسط تک، اور دوسرا جولائی سے ستمبر کے وسط تک رہتا ہے، لیکن افسوس کہ ماضی میں کبھی اس سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ پودے لگائے گئے، مگر پھر وہی بات کہ ان کی نگہبانی اور حفاظت بالکل نہیں کی گئی اور یہی وجہ ہے کہ ان کا وجود باقی نہ رہا۔ اس قسم کی روش ہمارے لیے موسم کے ہاتھوں ہلاکت اور بربادی کا سبب ہی بنے گی۔ سخت گرمی اور ہیٹ ویو سے اموات اور پریشانی کے ساتھ ہم بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے خشک سالی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

مجھے اور آپ کو بھی اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا ورنہ ہمارے بچے صاف آب و ہوا، موسموں کے بدلتے رنگوں اور اس سے حاصل ہونے والی خوشی اور راحت سے محروم ہو جائیں گے۔ یہی نہیں بلکہ خطرناک اور مہلک امراض ہماری نسلوں کو معذوری کے ساتھ موت سے ہمکنار کر دیں گے۔

.نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں  
loading...
loading...