!!!ماحولیاتی آلودگی کی دوسری بڑی وجہ جانیے

Image result for pollution pakistan

فائل فوٹو


ماحولیاتی(انوائرمینٹل) سائنسدانوں نے دنیا میں ماحولیاتی آلودگی کی ایک اور قابلِ غور وجہ مویشی فارم کی بڑھتی ہوئی تعداد بتائی ہے، اس تعداد کے بڑھنے کے پسِ پشت گوشت سے تیار کردہ کھانوں کی مانگ میں اضافہ ہے. ہمارے دسترخوانوں کی زینت بننے والے گوشت کے پکوان آخر کیوں کر آلودگی کا سبب بن رہے ہیں؟

تحقیقات کی بنا پر سائنسدانوں نے مویشی فارم اور ڈیری صنعتوں کو خام تیل سے پیدا ہونے والی آلودگی کے برعکس دنیا کی آب و ہوا کے لیے زیادہ خطرناک قرار دیا ہے. دو دہائیوں میں مویشی فارم نے جس برق رفتاری سے ترقی کی ہے، سائنسدان کہتے ہیں دوہزار پچاس تک ان فارموں کی تعداد میں دگنے اضافے کا خدشہ ہے، جس کی بدولت ماحولیاتی آلودگی بھی دگنی رفتار سے رواں دواں ہوگی۔

ورلڈ ریسورسز انسٹیٹیوٹ کے مطابق مویشی فارم اور ڈیری صنعتیں ماحول میں اٹھارہ فیصد گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتی ہیں، جو اعداد و شمار کے لحاظ سے دوسری (پہلی شرح خام تیل کی ہے) بڑی شرح ہے. زہریلی گیسوں کی یہ شرح ہمارے سیارے کی بقاہ کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں.
انوائرمینٹل(ماحولیاتی) ورکنگ گروپ کی ایک رپورٹ کے مطابق مویشی فارم حشرات کش ادویات، کھاد، ایندھن، چارے اور پانی کا بےتحاشا استعمال کرتے ہیں جس کے سبب آب و ہوا میں مہلک کیمیائی عناصر کا اضافہ پایا گیا یے جو انسانی صحت کے لیے ضرر رساں ہے. ڈیری صنعتوں اور مویشی فارم سے جن مسائل کا سامنا ہے ان کو زیرِ بحث لانا ضروری ہے۔

مویشی فارم میں پانی کا بکثرت استعمال

حالیہ وقت میں پوری دنیا کو پانی کی قلت کا سامنا ہے، پانی کے حوالے سے ریڈ الارم تک جاری کر دیے گئے ہیں. ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر، سب ہی پانی بچاؤ مہم کے ذریعے اپنی قوموں کو پانی بچانے کی تاکید کررہے ہیں اور مختلف طریقوں سے پانی کی قلت سے ہونے والے مسائل سے آگاہ کررہے ہیں. لیکن اس حقیقت سے انکار کرنا مناسب نہیں کہ ڈیری صنعتوں اور مویشی فارموں میں کثرت سے استعمال ہونے والا پانی اس مسئلے کو مزید تقویت بخش رہا ہے. دوہزار دس میں پانی کے استعمال پر ہونے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ سبزیوں کی کاشت کاری کے لیے فی کلو ٣٢٢ لیٹر, پھلوں کے لیے ٩٦٢ لیٹر فی کلو، چکن ٤٣٢٥١ لیٹر فی کلو، بھیڑ بکریاں ٨٧٦٣١ لیٹر فی کلو، بیف ١٥٤١٥١ لیٹر فی کلو، پانی کا استعمال ریکارڈ کیا گیا ہے. بیف کو پھلنے پھولنے کے لیے باقی جانوروں کی نسبت زیادہ پانی درکار ہے. یہ اعداد و شمار پانی کی قلت میں افزائش کا باعث سمجھے جارہے ہیں. چنانچہ یہ بات منظرِ عام پر لائی جاچکی ہے کہ مویشیوں کو محض بطور خوراک پالنا ہماری نسلوں کے لیے تباہی کا پیغام ہے.

مویشی فارم اور ڈیری صنعتوں سے پھیلنے والی آبی آلودگی

جہاں پانی کی قلت ایک المیہ ہے وہاں باقی کا رہا سہا پانی بھی آلودگی کی نظر ہورہا ہے. ہماری آنے والی نسلیں صاف پانی سے فیض یاب ہوتی نہیں نظر آتیں کیونکہ مویشی فارم کو آبی آلودگی میں بھی ملوث پایا گیا ہے. مویشیوں کو فارم میں پالنے کے لیے وافر مقدار میں غلہ اگانے کی ضرورت پڑتی ہے، عوام الناس میں بیف کے بڑھتے مطالبے نے اس بزنس کو مزید پذیرائی فراہم کی ہے. جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اگائے جانے والے غلے کا ایک تہائی حصہ مویشی فارم اور ڈیری کمپنی کو سپلائی کیا جاتا ہے جس کی مانگ میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، اور اس کے مضر اثرات پانی کے معیار پر مرتب ہو رہے ہیں. مویشیوں کی خاطر اناج کی سکت کو پورا کرنے کے لیے اناج کی فصلوں پر خطیر مقدار میں حشرات کش ادویات کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے اور اس چھڑکاؤ کے دوران حشرات کش ادویات فضا میں محلول ہوجاتی ہیں. لمحہء فکریہ یہ ہے کہ ان ادویات کے کچھ مہلک عناصر کی رسائی زمین میں تہ نشین پانی تک بھی ممکن ہے جس کے باعث پینے کا پانی بھی خطرے سے خالی نہیں رہا. ان ادویات میں شامل نقصان دہ کیمیکل انسانی صحت کے ضرر رساں ہیں۔

مویشی فارم کو وسیع تر بنانے کے لیے جنگلوں کی کٹائی

بلاشبہ مویشی فارم کو بنانے کے لیے وسیع و عریض زمینوں کی حاجت ہوتی ہے اور ان جانوروں کی خوراک کو پورا کرنے کے لیے کشادہ کھیتوں کی بھی لاگت ہوتی ہے. اس لاگت کو کاملِ تکمیل تک پہنچانے کے واسطے درختوں کی کٹائی کی جاتی ہے تاکہ ان کشادہ فارم میں ان جانداروں کی دیکھ بھال کی  جاسکے. بیف کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ کی وجہ سے درختوں کو کاٹنے سے گرین ہاؤس گیسوں کو مزید سہارا میسر ہو رہا ہے، درختوں کا خاتمہ یقیناً موحولیاتی آلودگی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

آب و ہوا میں رونما ہونے والی تبدیلیاں

آب و ہوا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب آشکار ہونے والے مضر اثرات کی لپیٹ میں ہر برِ اعظم ہے اور سائنسدان حاضرہ موسمیاتی تبدیلیوں سے آنے والے مسائل اور آفتوں کو ہمارے سیارے کے لیے کشندہ ٹھہراتے ہیں. فارم میں جانوروں کے فضلے(گوبر) سے میتھین گیس خارج ہوتی ہے جسے کاربن ڈائی اکسائیڈ گیس کے بر عکس پچیس گنا زیادہ مفسد گرداننا جاتا ہے. نائیٹرس آکسائڈ نامی گیس بھی فارموں سے خارج ہوتی ہے جسے میتھین گیس سے تین سو گنا زیادہ پر خطر تشخیص کیا گیا ہے اور فارموں کی بڑھتی ہوئی تعداد بدستور ان گیسوں میں بڑھوتری کا سبب ہے بذریعہ جس کے موسموں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

المیہ اس بات کا ہے کہ پاکستان اور اس جیسے ترقی پذیر ممالک میں جہاں جانوروں کو معیاری خوراک اور دیکھ بھال میسر نہیں، جہاں جانور عموماً بیماریوں کا شکار ہیں، میں ایسی زہریلی گیسوں کا اخراج ترقی یافتہ ممالک کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے، یہ ہماری موجودہ اور آنے والی نسل کے لیے پریشانی اور نقصان کا اندیشہ لیے ہوئے ہے۔

سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر آلودگی کے ان اسباب سے لڑنا ہے توسیع پاتی اس بیف انڈسٹری پر قابو پانا ہوگا. بیف محض آلودگی کے لیے ذمہ دار نہیں بلکہ اسکی بیش مقدار ذیابیطس، کولیسٹرول، امراضِ قلب، موٹاپا، کینسر جیسی بیماریوں کے لیے دعوت ہے. ماہرین ماحولیات اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سبزیوں کی کاشت بڑھا کر اس آلودگی کو معدوم بنانے کے لیے اقدامات کیے جا سکتے ہیں، بیف کو کم سے کم اپنی روز مرہ غذا کا حصہ بنا کر اس کے سبب پھیلنے والی آلودگی میں کمی برتی جا سکتی ہے. دنیا میں آلودگی کا سبب بننے والی دوسری بڑی وجہ یعنی بیف انڈسٹری کے متعلق لوگوں کو آگاہی دینا نہایت لازمی ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک بہتر دنیا فراہم کر سکیں۔

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے  ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

loading...
loading...