آزاد امیدوار کب تک اپنی بولیاں لگواکر لوگوں کے ووٹ بیچتے رہیں گے

فائل فوٹو

فائل فوٹو

بیس جولائی کا دن سابقہ فاٹا (قبائلی اضلاع)کی قسمت چمکنے کا دن تھا 1947 سے فاٹا کے لوگ ایک ظالمانہ  نظام کے تحت زندگی گزار رہے تھے کہ 2018 میں مسلم لیگ ن کی دور حکومت میں قبائلی اضلاع کو خیبر پختون خواہ میں ضم کردیا گیا اور اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اعلان کیا کہ قبائلی اضلاع میں جلدازجلد صوبائی الیکشن کا انعقاد ممکن بنائینگے اس کے بعد 25 جولائی کو ملک میں عام انتخابات ہوئے اور پاکستان تحریک انصاف برسراقتدار آگئی بلاآخر پاکستان تحریک انصاف کی دور حکومت میں 20 جولائی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے زیراہتمام پہلی مرتبہ قبائلی اضلاع میں  16صوبائی نشستوں پر انتخابات ہوئے جس میں سب سے زیادہ 6نشستوں پر آزاد امیدواران کامیاب ہوئے،5نشستیں حکمران جماعت کے حصے میں آئیں،3نشستیں جے یو آئی ف لے گئیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی نے بالترتیب ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ۔قبائلی اضلاع میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والے امیدواران میں زیادہ تر تعداد ان کی ہیں جو جاگیردار ہیں جو عرصہ دراز سے کسی نہ کسی طریقے سے سیاست سے منسلک رہے تھے لیکن آج تک علاقے کی عوام نے ان کی طرف سے کوئی خاطرخواہ کارکردگی نہیں دیکھی تھی کہ ایک بار پھر جاگیردار خاندان سے تعلق رکھنے والے بعض  آزاد رکن کی حیثیت سے خیبرپختون خواہ اسمبلی میں پہنچ گئے ہیں الیکشن مہم کے دوران لوگوں سے وعدے کرچکے ہیں اور مخالف پارٹی کو برا بلا بھی کہتے رہے تھے لوگوں نے انہیں آزاد امیدوار کی حیثیت سے ووٹ دیئے کیونکہ ان ووٹروں نے دوسری سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو کسی نہ کسی اختلاف یا ان کے اعمال و افعال کی وجہ سے ان کے حق میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بجائے آزاد امیدوار کو بہتر جانتے ہوئے آزاد امیدوار کے حق میں ووٹ کاسٹ کیئے تھے لیکن اب چونکہ ان آزاد اراکین میں سے بعض ارکان نے وزارت یا کسی اور لالچ کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے حامی بھرلی ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی مفادات کی خاطر عوام کی قسمت کو داو پر لگا رہے ہیں اپنے فائدے اور وزارت کی لالچ میں سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا مناسب عمل نہیں عوام کے منتخب نمائندے ہوکر اپنا فائدہ حاصل کرنا نا انصافی ہے۔یہ اس طرح ہے کہ”آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا”یعنی قبائلی عوام پہلے ہی بہت دکھ درد سہے چکی ہیں اب ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں اب جب ان لوگوں کی قسمت بدلنے کا وقت آیا ہے تو وہاں سے منتخب ہونے والے ممبر آف صوبائی اسمبلی اپنے مفاد کی خاطر قبائلی عوام کو ایک بار پھر تاریکی کی طرف دکھیلنا چاہتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

loading...
loading...