مصر کے سابق صدر محمد مرسی کون تھے؟

husni

جدید مصر کےپہلے منتخب جمہوری صدر محمد مرسی آمر کے سامنے نہ جھک کر تاریخ میں امر ہوگئے۔ محمد مرسی کے الفاظ رہتی دنیا تک آمروں اور سامراجی طاقتوں کے خلاف اعلان حق کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

“ہمارا مقصد حیات اللہ ہے۔ ہمارے لیڈر محمدﷺ ہیں۔ ہمارا آئین قرآن ہے۔ جہاد ہماراراستہ ہے۔اللہ کی رضا کی خاطر جان دینا ہماری سب سے عزیز خواہش ہے۔”

تحریر اسکوائر سے مصری انقلاب کا آغاز

سال 2011 میں مصری عوام اس وقت کی آمر حکمراں حسنی مبارک  کے خلاف  اٹھ کھڑے ہوئے۔ دارلحکومت قاہرہ کے تحریر اسکوائر سے شروع ہونے والے پولیس کے بہیمانہ تشدد، آمرانہ قوانین، انتخابی دھاندلی، سیاسی سنسرشپ، کرپشن، بے روزگاری، مہنگائی اور کم اجرت کے خلاف احتجاج کی یہ چنگاری دیکھتےہی دیکھتے پورے مصر میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ لاکھوں کی تعداد میں مظاہرین نے حسنی مبارک کو صدارت  کے منصب سے اتار نے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والے پر تشدد تصادم میں کم از کم 846 افراد جاں بحق اور 6000سے زائد زخمی ہوئے۔

حسنی مبارک کے 30 سالہ اقتدار کا خاتمہ

پچیس جنوری 2011کو شروع ہونے والے احتجاج کے ڈھائی ہفتے بعد 11فروری کو نائب صدر عمر سلیمان نے حسنی مبارک کے استعفے کا اعلان کیا اور اختیارات سپریم کونسل آف آرمڈ فورسز کے حوالے کردیے۔جس کے بعد کونسل نے 13فروری کو ملک میں آئین کی معطلی کا اعلان کیا، دونوں پارلیمان کو تحلیل کردیا گیااور بتایا گیا کہ فوج اقتدار چھ ماہ تک اپنے پاس رکھے گی(جب تک الیکشن نہیں ہوجاتے)۔ سابق کابینہ بشمول وزیر اعظم احمد شفیق کو نئی حکومت کے آنے تک نگراں قرار دیا گیا۔

محمد مرسی کی تاریخی فتح

حسنی مبارک کےخلاف انقلاب اور سپریم کونسل کے اقتدار کے بعد اخوان المسلمین  زبر دست کامیابی کے ساتھ اقتدار میں آئی اور جون 2012 کو محمد مرسی کو بطور صدر منتخب کیا۔

محمد مرسی  جدید مصر کی تاریخ کے پہلے جمہوری صدر تھے۔ لیکن ان کا یہ اقتدار زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکا۔ محمد مرسی نے مصری قوانین کو اسلامی قوانین  میں تبدیل کرنے کے لیے کام شروع کردیا تھا۔ اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ آیندہ کوئی آمر مصر کے عوام کے حق ھکمرانی پر شب خون نہ مارے۔ جس کے لیے انہوں نے بطور صدر اپنے اختیارات میں اضافہ بھی کرلیا تھا۔ یہ وہ فیصلے تھے جو محمد مرسی کےتختہ الٹنے کی بڑی وجہ بنے۔

مرسی کے خلاف فوجی بغاوت

 فوجی اور سیکولر اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی پر 28جون 2013کو محمد مرسی کے خلاف احتجاج شروع ہوا۔جس کو بہانا بنا کراُس وقت مصری فوج کے سربراہ جنرل سیسی نے صدر مرسی کو مسائل حل کرنے کےلئے 48 گھنٹوں کا وقت دیا اور دھمکی دی کہ بصورت دیگر وہ کوئی اور رستہ اختیار کریں گےتاہم محمد مرسی نے اس الٹیمیٹم کورد کردیا۔اور فوج کی بات ماننے کے بجائے اپنی حکومت جانے کو ترجیح دی۔ 3جولائی 2013کو مصری فوج نے ان کے خلاف بغاوت کی اور ان کے وزیر دفاع جنرل عبدالفتح السیسی کی سربراہی میں  ان کی  حکومت کا تختہ الٹ دیا گیااور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

مرسی کے خلاف مقدمات

گرفتاری کے بعد دو ماہ تک معزول مصری صدر کو خفیہ جگہ رکھا گیا۔ اور پھر ستمبر 2013میں محمد مرسی پر الزام عائد  کرکے مقدمہ بنایا گیا کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو ایک صحافی اور دو اپوزیشن مظاہرین کو قتل کرنے کےلئے اکسایا۔

الزامات کا تعلق دسمبر 2012میں صدارتی محل کے باہر اخوان المسلمین اور اپوزیشن مظاہرین  کے درمیان ہونے والے تصادم سے ہے۔

نومبر 2013 میں محمد مرسی پر14مزید اخوان المسلمین  شخصیات کے ساتھ  مقدمہ شروع ہوا اور اپریل 2015 میں انہیں اور دیگر کو 20سال کی قید ہوئی۔

محمد مرسی قتل کے مقدمے سے بری ہوئے لیکن مظاہرین کی گرفتاری اور تشدد کاحکم دینے کے مرتکب پائے گئے۔

مرسی مسلم امہ کے داعی

محمد مرسی مسلم امہ کے درمیان اتحاد اور بہترین روابط کے داعی اور اسرائیل سمیت تمام سامراجی قوتوں کے خلاف شدید جذبات رکھتے تھے۔2013 میں مغربی میڈیا نے 2010 میں ان کی جانب سے دیے گئے بیان ‘صیہونیوں کا فلسطین پر کوئی حق نہیں’ خوب اچھالا۔

تعلیمی پس منظر

محمد مرسی نے قاہرہ یونیورسٹی سے 1975 میں انجنیئرنگ  اور پھر 1975سے 1976تک مصری فوج میں کیمیکل وارفیئر یونٹ میں خدمات انجام دیں۔

اس کے بعد اپنی تعلیم کا سلسلہ پھر شروع کیا اور 1978میں میٹلرجکل انجنیئرنگ میں ایم ایس کیا۔

ایم ایس کے بعد محمد مرسی نے سرکاری اسکالرشپ حاصل کی اور پی ایچ ڈی کرنے امریکا چلے گئے۔

انہوں نے 1982 میں پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کی۔

محمد مرسی نے کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی  میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر 1982 سے 1985 تک پڑھایا۔

مصر واپسی کے بعد وہ زگازگ یونیورسٹی کے انجنیئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈمقرر ہوئے اور 2010تک پڑھاتے رہے۔

سیاسی جدوجہد

محمد مرسی2005-2000 تک بطورآزاد امیدوار پارلیمنٹ کے رکن رہے۔  لیکن بعد میں آبائی حلقے کی سیٹ ہار گئے جسے انہوں نے دھاندلی قرار دیا۔

بطور ممبر پارلیمنٹ ان کی شعلہ بیانی سراہی جاتی تھی۔

اپریل 2012میں ان کو اخوان المسلمین کا صدارتی امیدوار منتخب کیا گیا۔

وفات

محمد مرسی 17 جون 2019 کو جاسوسی کے مقدمے میں کمرہ عدالت موجود تھے جہاں وہ اچانک بے ہوش ہوگئے۔ جس کے بعد اُنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ راستے ہی میں دم توڑ گئے۔

ان کی عمر 67 برس تھی۔

loading...
loading...