ادارہ نورحق میں نشرو اشاعت سے میڈیا سینٹر تک کا سفر

جماعت اسلامی کے حلقوں میں چوہدری غلام محمد کا نام اب خال خال ہی سنا جاتا ہے۔جماعت اسلامی کراچی، اور سندھ، میں جو آج برگ وبار لا رہی ہے، اس میں چوہدری غلام محمد بنیادی کردار ہیں۔

چوہدری غلام محمد کی شخصیت اتنی بڑی ہے کہ، جب مولانا مودودی نے جماعت اسلامی کی امارت سے دستبرداری کی اور اپنا استعفی شوری میں پیش کیا، تو شوری کے اجلاس کے بعدسید منور حسن نے سیدی سے پوچھا کہ ،،مولانا اب جماعت اسلامی کا کیا ہوگا تو مولانا محترم نے فرمایا،، چوہدری غلام محمد تواللہ کو پیارے ہوگئے اور پروفیسر خورشید احمد لندن چلے گئے۔ اب جماعت اسلامی کا اللہ حافظ ہے۔،،گویا چوہدری غلام محمد کو مولانا سید مودودی اپنے جانشین کے طور پر دیکھتے تھے۔ 

چوہدری غلام محمد جماعت اسلامی کے اولین افراد میں سے تھے، تقسیم سے قبل وہ ریلوے میں تھے، جب انھوں نے مولانا ابوالاعلی مودودی کے قافلے میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ انتہائی قابل، معاملہ فہم، دور اندیش اور شاندار انتظامی صلاحیتوں کے حامل تھے، یورپ، افریقہ، مشرقی پاکستان(حالیہ بنگلہ دیش)، مشرقی وسطی میں جو آج جماعت اسلامی کا دعوتی کام ہے، اور جو ادارے اور تحاریک برپا ہیں، ان سب کی بنیادوں میں چوہدری غلام محمد کہیں نہ
کہیں موجود ہیں۔جسارت اخبار،نیشنل لیبر فیڈریشن، چراغ راہ اور بے شمار ادارے ان کی شمع خیال کی روشنی سے آج بھی روشن ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے: چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

مجھے آج چوہدری غلام محمد کی یاد اس لیے آئی کہ، آج جماعت اسلامی کراچی کا شعبہ نشرو اشاعت ایک جدید میڈیا سینٹر کو روپ دھار چکا ہے اور امیر جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن اس نئے دفتر کا افتتاح کر رہے ہیں۔ گو جماعت اسلامی کے مرکز ادارہ نورحق میں نشرو اشاعت سے میڈیا سینٹر تک کا یہ سفرچند گز کا ہے، لیکن یہ فاصلہ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔چوہدری غلام محمد نے جماعت اسلامی کا کراچی سے اخبار نکالنے کا پروگرام ایوب خان کے ابتدائی دور میں بنایا تھا، وہ کراچی کے صحافیوں سے بھرپور ربط وضبط رکھتے تھے، اس لیے روزنامہ جنگ سے یوسف صدیقی نے جب
استعفی دیا تو چوہدری غلام محمد نے انھیں فورا ہی ایڈیٹر کے طور پر انگیج کر لیا۔

 اخبار کے لیے دفتر ، ٹیلی پرنٹرز ، فون سب کچھ مہیا کیا، لیکن حکومت نے اخبار کا ڈیکلیرشن دینے سے انکار کردیا، یوں یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ اس دور میں جماعت اسلامی کا نشرواشاعت کا سب کام چوہدری غلام محمد ہی انجام دیا کرتے تھے، وہ خود پریس ریلیز تیار کرتے اور خود ہی سائیکل پر اخبار نویسوں اور اخبارات تک پہنچاتے۔ 

میں نے جب جماعت اسلامی کے شعبہ نشرو اشاعت میں قدم رکھا تو یہ دفتر ایک چھوٹے کمرے پر مشتمل تھا۔ جس کا کل اثاثہ ایک ٹرانسسٹر پر مشتمل تھا، جو ناظم نشرو اشاعت شیخ محبوب علی کی کرسی کے پیچھے ٹنگا ہوا ہوتا تھا، جس پر بی بی سی کی خبریں سنی جاتی تھی۔ شیخ محبوب علی جمعیت کے ناظم اعلیٰ رہ رچکے تھے، مرد قلندر تھے، سادہ اور ہرایک سے محبت سے ملنے والے ۔اس زمانے میں اخبارات جماعت اسلامی کی خبر کبھی کبھار ہی
شائع کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیئے: کیاانسان کی اوسط عمر 200 سال سے زیادہ ہو جائے گی؟

جماعت اسلامی کی خبروں کے عروج کا زمانہ قومی اتحاد کا زمانہ کہا جاسکتا ہے، جس میں جماعت اسلامی کے شعبہ ہائے نشرواشاعت ہی پورے پاکستان میں قومی اتحاد کی خبروں کا مرکز تھے۔کراچی جماعت اسلامی کے نشرواشاعت کو ایک بڑے ویژن اور مستقبل بین نگاہوں سے دیکھنے والی ایک شخصیت شمیم احمد کی تھی۔ خاموش طبع،منصوبہ ساز،اور عملی کام کرنے والے شمیم احمد ،محمود اعظم فاروقی کے زمانے میں نشرو اشاعت کے ناظم تھے، شاہد احمد شمسی نائب ناظم تھے۔ اس دور میں خبریں ہاتھ سے پریس ریلیز لکھ کر یا ٹائپ رائیٹر پر ٹائپ کرکے بھیجی جاتی تھی، جس کے لیے ایک پرانا ٹائپ رائٹر تھا۔منصور صاحب جز وقتی طورپر ٹائپپسٹ کی خدمات انجام دیتے۔

اس زمانے میں ایک انقلابی اقدام یہ ہوا کہ ایک دن ایک ٹرالی میں ایک چودہ انچ کا ٹی وی شعبہ نشرواشاعت میں لایا گیا۔ جس کو باقاعدہ تالہ چابی سے مقفل رکھا جاتا تھا۔ اس ٹی وی کے دفتر میں آنے پر بہت سے اعتراضات تھے۔ لیکن شمیم احمد کی گہری خاموشی ایک ایسا جواب تھا، جس پر کوئی بات آگے نہیں بڑھ سکی۔ یوں اس ٹی وی نے اس دفتر میں باقاعدہ ڈیرے ڈال دیئے۔ لیکن یہ عموماً نو بجے کے خبر نامے کے وقت ہی کھولا جاتا تھا۔ اور خبروں کے بعد تالا بند کردیا جاتا تھا۔

Related image

 نعمت اللہ خان جو اس زمانے میں نائب امیر جماعت تھے، کبھی کبھی اس شعبے میں آتے، شاہد شمسی اکثر انھیں سگریٹ پیش کرتے، خان صاحب جو کراچی یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے اولین طلبہ میں سے تھے، صحافت سے خصوصی شغف رکھتے اور اخبارات کی خبروں پر تبصرہ بھی کرتے۔سید منور حسن بھی اس شعبہ میں خصوصی دلچسپی لیتے، اچھی کوریج پر تعریف کرتے، مخالفین کے بیانات کو خاص طور پر مانیٹر کرتے اور ان کا شافی جواب بھی دیتے۔ محمود اعظم فاروقی کا بیان بہت نپا تلا اور مدلل ہوتا، وہ اپنے بیان کو خود لکھتے، اور شائع ہونے کے لیے بھیجنے سے پہلے خود اس کو دیکھتے، اور اکثر غلطیوں کی نشاندہی کرتے۔

شمیم احمد مستقبل شناس تھے، اس لیے وہ کچھ نیا سوچتے تھے، اور کچھ نیا کرنا چاہتے تھے۔ وہ ہر سال نشرو اشاعت کی سالانہ منصوبہ بندی کا پیپر تیار کراتے، جس کی ذمہ داری اکثر وہ مجھ پر ڈال دیتے۔ شعبے میں کمپیوٹر، فیکس مشین، اور کیمرے اور ریکارڈنگ اور دیگر چیزوں کی آمد کی بنیاد یہی منصوبہ بندی تھی، جو سال بسال شعبہ کو مستحکم کرتی رہی۔انھوں نے کراچی جماعت میں ٹی وی کو لاکر اس ڈیجیٹل اور الیکٹرونک دور کو بھانپ لیا تھا،
جو مستقبل میں پاکستانی سیاست کو اپنی لپیٹ میں لینے والا تھا۔ اس زمانے میں انھوں نے سمع بصر کو بھی شروع کیا۔

یہ بھی پڑھیئے: رْت بدلنے پر پرندے پھر مسافر ہو گئے

جماعت اسلامی کراچی کے نشرواشاعت میں سرفراز احمد کا دور بھی بہت سے نئے کام کی بنیاد بنا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ الیکڑونک میڈیا کی مونیٹرینگ کا آغاز ہے، سرفراز احمد کے دور میں نشرو اشاعت میں ایک ہنگامی حالت رہتی،لیکن وہ خبروں کے فالو اپ اور صحافیوں سے تعلقات اور کام لینے کی صلاحیت رکھنے کے سبب جماعت اسلامی کو اخبارات میں کچھ نہ کچھ حصہ دلانے میں کامیاب رہتے۔ جماعت اسلامی کے نشرواشاعت میں زاہد عسکری کی آمد نے اس شعبے کی تنظیم نو، خبروں کی اخبارات کو بروقت ترسیل،ٹی وی مونیٹرینگ کو موثر بنانے ، الیکٹرونک میڈیا کو منظم کرنے، فیکس سے ای میل پر خبریں بھیجنے، بروقت ٹکر بھیجنے، صحافیوں اور اخبار مالکان اور ذمہ داروں سے رابطہ کو مزید بہتر اور موثر کیا۔ زاہد عسکری تنظم کے آدمی ہیں، مزدور کو منظم کرنے کے بعد انھیں صحافت میں اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا موقع ملا ہے۔ انھوں نے ماس کیمونیکشن میں ڈگری حاصل کرکے،صحافت میں اپنے ایک ادھورے پروگرام کو بھی مکمل کیا ہے، میڈیا سینٹر کا قیام بھی ان کی مسلسل کوشش اور کاوش کاثمرہے۔ ( جاری ہے)

   نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے،  ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔  

loading...
loading...