“تکلف برطرف ” ڈیری کا کوآپریٹو نظام – ایک آپشن

Related image

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کی اس سوچ سے کوئی ذی شعور اختلاف نہیں رکھتا کہ دیہی عوام کی معاشی صورت حال میں بہتری لائے بغیر ملککو خوش حالی کی جانب گامزن نہیں کیا جاسکتا اور اسی سوچ کے زیر اثر انہوں نے غریب دیہی آبادی کے لیئے مرغیوں کی تقسیم کا پروگرام شروع کیا ہے  لیکن یہ پروگرام کوئی نیا آئیڈیا نہیں ہے۔ قبل ازیں شہباز شریف صاحب وزیراعلیٰ کے طور پر یہ پروگرام کر چکے ہیں جس کے تحت مرغیوں اور گائے بھینسوں کو دیہی علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اس طریقہ کار سے غربت میں کمی لائی جاسکے گی یا ماضی کی طرح چند ارب روپے حکومت کے خزانے سے خرچ کرنے کے بعد پرنالہ وہیں کا وہیں رہے گا۔

دراصل کسی بھی مؤثر میکینزم اور مارکیٹنگ کے طریقہ کار کے بغیر کسی عام کسان یا فارمر کے لیئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنی پیداوار سے منافع کما سکے آپ نقد آور فصلوں کا معاملہ ہی دیکھ لیں کہ کسان کس طرح آڑھتیوں اور مل مالکان کے قبضہ قدرت کے نیچے اپنی پیداوار کے مناسب منافع سے محروم رہتا ہے اور اسے حالات کے رحم و کرم پر گزر بسر کرنا پڑتی ہے ۔محنت کر کے فصل اچھی بھی ہوجائے تو اس سے منافع حاصل کرنے کے لیئے فارمر کو کس قدر جدوجہد کرنا پڑتی ہے اس کا احساس آپ کو شوگر ملوں کے سامنے لمبی لمبی لائنوں میں لگی گنے کی ٹرالیوں سے بہ خوبی ہوسکتا ہے۔ گنا سپلائی کرنا بھی ایک مسئلہ اور سپلائی کے بعد اس کی رقم سرمایہ دار سے وصول کرنا بھی ایک کاردراد۔ یہ صورتحال زراعت اور اس سے وابستہ ہر شعبے میں کار فرما ہے۔

زراعت کے اہم شعبہ لائیوسٹاک میں ڈیری فارمنگ کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، قدرت نے مملکت خدادادپاکستان کو کم و بیش چھ کروڑسے زائد بھینسوں کی دولت عطاء کر رکھی ہے لیکن ستم ظریفی دیکھیں کہ ہم بچوں کو دودھ پلانے کے لیئے کہیں خالص دودھ کی تلاش میں دھکے کھا رہے ہیں تو کہیں اربوں روپے کا ڈبہ بند دودھ برآمد کرنے پر مجبور ہیں۔

‘‘یہ بھی پڑھیئے: تکلف برطرف ’’خدا دلِ فطرت شناس دے تجھ کو

ڈیری فارمنگ ایسی صنعت ہے جس کی بنیاد پر کئی مغربی ممالک اپنی معشیت چلا رہے ہیں حالانکہ ان کے وسائل اور افرادی قوت ہماری نسبت بہت کم ہے لیکن اس شعبہ میں انہوں نے جانوروں کی بہتر سلیکشن اورمتوازن خوراک سے اچھی پیداوار حاصل کر کے مؤثر مارکیٹنگ نظام کی بدولت اپنے فارمر کوخوشحالی اور ملک کو ترقی کی طرف گامزن کیا ہے۔

ہماری حکومتوں نے اس اہم شعبہ کو ایک عرصے تک نظرانداز کیئے رکھا اب کچھ عرصے سے یہ حکومت کی نگاہ ناز پر آیا لیکن انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی کی وجہ سے نتائج خیز ثابت نہیں ہو پا رہا دیہاتوں میں چلے جائیں تو دودھ کو فروخت کرنا ایک مسئلہ جب کے شہروں کا رخ کریں توخالص دودھ کی فراہمی ناممکن ہے۔

پاکستان میں ایک دہائی قبل تک کمرشل ڈیری کا کوئی تصور موجود نہیں تھا لیکن حالیہ سالوں میں بڑے بڑے سرمایہ کار گروپ ڈیری فارمنگ کی صنعت میں وارد ہوئے اور انہوں نے ہزاروں امپورٹڈ گائیوں کے ساتھ جدید کمرشل ڈیری کی بنیاد ڈالی انڈسٹری کے لیئے ان کی سرمایہ کاری خوش آئند ہے اور اس سے ڈیری فارمنگ کی صنعت کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی لیکن کیا یہ کمرشل فارمنگ ہمارے 70فیصد دیہات میں رہنے والے عوام کی حالت زار میں بھی کوئی تبدیلی لاسکے گی یہ ایک سوالیہ نشان ہے، غیر جانب دارانہ طورپر اس کا تجزیہ کیا جائے تو جواب نفی میں ہوگا۔

Image result for dairy farm pakistan

اب تک جو معروف بڑی ڈیری کمپنیاں ہمارے ملک میں کام کر رہی ہیں اور دیہی علاقوں سے دودھ اکٹھا کر کے اس کی پروسسینگ پیکنگ اور مارکیٹنگ کرتی ہیں وہ فارمر سے دودھ کی خریداری مارکیٹ ریٹ سے تقریبا نصف قیمت پر کرتی ہیں اور یہ قیمت خرید فارمرز کی کاسٹ آف پروڈکشن سے بھی کم بنتی ہے جبکہ دودھ کی سٹرویج اور مارکیٹنگ انفراسٹرکچر کی عدم دستیابی فارمرز کوان کمپنیوں کو دودھ فروخت کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔

ان حالات میں اپنی دیہی عوام کے حالات کو کیسے بدلیں یہ سوال غور طلب ہے اس کے لیئے ہم اپنے پڑوس بھارت میں کوآپریٹو کے نظام سے استفادہ کر سکتے ہیں کیونکہ جب سے یہ نظام بھارت میں متعارف کرایا گیا ہے وہاں دودھ کی پیداوار تین سے چار گناہ بڑھ چکی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اس نظام سے پہلے 21 ملین ٹن سالانہ تھی جو اب لگ بھگ 100 ملین ٹن ہے اور اس سکیم سے 53 فیصد وہ فارمر فائدہ اٹھار ہیں ہے جن کے پاس اپنی کوئی زمین نہیں جبکہ 19فیصد بڑے زمیندار بھی مستفید ہو رہے ہیں مجموعی طور پر 5 لاکھ دیہات کے 7 کروڑ کسان کوآپریٹو کے نظام سے وابستہ ہیں اس طرح بھارت کا فارمر دودھ کی پیداوار اور مارکیٹنگ کے نظام کی بدولت اچھا منافع کما رہا ہے اس کوآپریٹو نظام کی بنیادی اکائی دیہات کی سطح پر کوآپریٹو کونسل ہے جس کی مینجمنٹ کوممبر فارمرز خود منتخب کرتے ہیں اس سے اوپر ایک ضلع کوآپریٹوہے جبکہ ریجنل سطح پر ان کوآپریٹوکی ایک فیڈریشن موجود ہے کوآپریٹو کی مینجمنٹ ٹیکنیکل اور پروفیشنل مینجرزکے ذریعے اس نظام کو چلاتی ہے اس کوآپریٹو نظام میں خوراک کے کارخانے یعنی فیڈ ملز مصنوعی نسل کشی کے ٹیکے جات بیماری سے بچاؤ کے لیئے ویکسنیشن اورعلاج معالجہ کے لیے ادویات ایک پیکج کی شکل میں شامل کر دی گئی ہیں کوآپریٹو دودھ کی خریدوفروخت کی ذمہ دار ہوتی ہے اور اس کے ممبر فارمرز کے لیئے لازم ہے کہ وہ دودھ اس کوآپریٹو کو فراہم کریں فارمر اپنے دودھ کی قیمت انہی کوآپریٹو سے وصول کرتا ہے، جبکہ کوآپریٹو دودھ کی قیمت کا تعین خود کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے: سوشل میڈیا دنیا اب گلوبل و یلج کی بجائے لوکل ویلج بن گئی

یہ درست ہے کہ بھارت میں کوآپریٹو اور سرکاری اداروں کہ ذریعے دودھ کا نظام مجموعی پیداوار کا صر ف 20 فیصد ہے اور 80فیصد دودھ چھوٹے فارمرز روایتی نظام سے سیل کرتے ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس 20 فیصد نے بھی دودھ کی پروڈکشن پروسسینگ اور مارکیٹنگ میں ایک انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے جس سے عام ڈیری فارمر مڈل مین کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رہتے ہوئے ایک معقول منافع کمارہا ہے۔

پاکستان میں انڈیا کے بعد دودھ دینے والی بھینسوں کی سب سے بڑی تعداد موجود ہے اور دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں ہم پانچویں نمبر پر ہیں لیکن ستم ظریفی کہ ہم اس کے ذریعے اپنے فارمرز کو خوشحالی کی منزل تک نہیں لاسکے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دیہات کے غریب کسانوں خصوصا زمین نہ رکھنے والے یا بہت کم زمین کے مالک کسانوں کو ایسا مؤثر نظام دے سکیں جس کے ذریعے ڈیری بطور صنعت بھی ترقی کرے اور فارمرز بھی معقول منافع کما کر اپنی خوشحالی کے خواب کی تعبیر کو پا سکیں۔ اس سلسلے میں ڈیری کوآپریٹو بھی ایک آپشن کے طور پر ہمارے سامنے رہنی چاہیئے

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے،  ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔    

loading...
loading...