سو دن کی حکومت ، نئے پاکستان کی بنیاد؟

Image result for pti 100 days

آج صبح اخبار کا پہلا صفحہ کھولا تو ایک بڑا اشتہار نظر آیا ۔ جانے کیوں ایک جملے کے لیے لاکھوں روپے کا یہ اشتہار دیا گیا۔ ہم مصروف تھے، بس یہی بتانا تھا تو اس کے لیے ایسی کیا مشکل تھی۔

اگلے صفحہ پران مصروفیات کی تفصیل تھی۔ سو دن ہوتے ہی کتنے ہیں۔ مہینوں میں ناپیں تو تین ماہ دس دن۔ اب تبدیلی آئی رے کی لہر کو ہم سو دن میں کیا محسوس کریں۔ حکومت اور تبدیلی کے لیے تو ایک دن بھی بہت ہے، بچہ سقہ نے بادشاہ سے ایک دن کی حکومت مانگی اور تاریخ میں اپنا نام یوں امر کر لیا کہ اس نے اپنے ایک دن کے راج میں چمڑے کے سکے جاری کرادیئے۔ سقہ جو ٹہرا۔ چمڑے کے مشکیزے اٹھانے والے تو چمڑے ہی سے محبت ہوسکتی ہے۔

میرے لیے تو یہ سو دن یوں بھاری ہوگئے کہ ڈالر ایک ہی جھٹکے میں دس روپے اوپر چلا گیا۔ میرے سو روپے کی قو ت خرید اور کم ہوگئی، گیس ، بجلی ،مہنگی ہوگئی میرا مہینے کا بجٹ آوٹ ہوگیا۔ سی این جی پہلے پانچ سو کی بھرا کر پانچ دن آرام سے گزر جاتے تھے، اب دو دن کے بعد ہی پانچ سو روپے کی گیس بھرانی پڑ جاتی ہے، وہ بھی دستیاب ہو تو، پیٹرول کی قیمت بھی اوپر اوپر جارہی ہے اور اسٹاک ایکسچینج نیچے آرہا ہے، اب تک کہیں ٹک ہی نہیں رہا۔

سارا قصور اسد عمر کا ہے،عمران خان کی کپتانی میں تحریک انصاف کی حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو چند ہی دنوں میں انھیں پتہ چل گیا ، حکومت چلانا آسان نہیں ہوتا۔ حکومت کو بہتر اندازمیں چلانے کیلئے بڑی مہارت کی ضرورت ہے ۔ اور گزشتہ 70 برس سے جس ملک میں آوا کا آوا ہی بگڑا ہوا ہو  اس کی معیشت اور سیاست کے تو کیا ہی کہنا۔ ملکی خزانہ تو ہر جانے والا خالی ہی کر جاتا ہے، اس لیے خزانے کو بھرنا تو لازمی ہی ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے خسارے پر قابو پانے اور قومی خزانے کو بھرنے کے لیے چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، ملائشیا کے دورے کئے اور زرمبادلہ کے فنڈز کو کچھ سپورٹ مل گئی۔ 6 سے 8 ارب ڈالرز کی مالی امداد اب کہاں تک ساتھ دے گی۔

حکومتی اقتصادی ٹیم نے آئی ایم ایف سے ملاقات کو اتنا شہرہ مچایا کہ سب کو عمران خان کو یاد دلانا پڑا کہ وہ کسی صورت آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا بہت بار ذکر کر چکے ہیں۔ آئی ایم ایف نے ملکوں کی معیشت کو سہارا نہیں دیا بلکہ انھیں تباہ کیا ہے۔ وہ اب بھی یہی چاہتے ہیں کہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہو، بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے کیا جائے، اگر یہ ہوا تو پھر گرانی کی لہر سے خان صاحب کی مقبولیت میں کمی تو آئے گی۔

تحریک انصاف والے بھنگڑہ ڈال رہے ہیں کہ عمران خان نے ان سو دنوں میں جو سب سے عمدہ اور متاثرکن کام کیا ہے وہ لاہور میں اُن افرادکو پناہ گاہ فراہم کی ہے جو سخت سردی میں سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر ٹھٹھر ٹھٹھر کر بمشکل زندہ رہتے تھے۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اس سے پہلے سستی روٹی اور دانش اسکول اور صاف پانی کے ایسے ڈرامے کرچکے ہیں۔ چند سو یا ایک دو ہزار افراد کو ایسی پناہ گاہوں کے فراہم کرنے سے ملک کے لاکھوں غریبوں کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

ملک میں تجاوزات کو ہٹانے کی آڑ میں غریبوں کے گھروں اور کاروبار سے محروم کرنے پر کراچی میں ایک کہرام برپا ہے۔ کیا یہ بدقسمتی نہیں ہے کہ یہ تجاوزات برسہا برس سے حکومت کرنے والے خود ہی کراتے رہے ۔ سپریم کورٹ کے حکم پر تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں وہ ادارے جنہوں کی ملی بھگت سے یہ تجاوزات قائم کی ہوتی ہیں وہی افراد آج غریبوں سے روزگار اور ان کے سر سے چھت چھین رہے ہیں۔ کراچی میں تجاوزات، چائنہ کٹنگ، پلاٹس اور پارکس اورسڑکوں پر قبضہ کن لوگوں نے کرایا کیا ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوگی۔

سو دن میں زمینوں پر قبضے ختم کرانے کے جو وعدے عوام سے کئے گئے تھے وہ فی الحال تو پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت پی ٹی آئی ٹائیگرز کے ساتھ سو دن کی کامیابی کا جشن منا رہی ہے۔ کہا جارہا کہ سو دن میں نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے۔ پرٹوکول سے صدر مملکت بھی تنگ ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ ابھی 5 لاکھ مکانوں کی تعمیر، بلدیاتی انتخابات، ایک کروڑ نوکریاں اور معیشت کی بحالی ایسے وعدے ہیں۔ جو تبدیلی والوں کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ ان چیلنجوں سے عہدہ براہ ہونے کیلئے سو دن کافی نہیں ہیں۔

.نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں    

loading...
loading...