رجب طیب اُردگان ,عالم اسلام کا ہیرو

a_068_ftptrial-aa_08072017_559071_gettyimageshungary_eza-e1499842773690-1024x576

ترکی کے صدر رجب طیب اُردگان وہ عظیم شخصیت ہیں کہ عالم اسلام کا دل اُن کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے وقت کے فرعونوں کو للکارا ہے۔ ایک مرتبہ یہ کہہ کر دنیا کو ششدر کردیا کہ امریکہ اپنی حدوں کے اندر رہے، باغیوں کو پکڑنے سے متعلق اس کے بیانات ترکوں کو غصہ دلا رہے ہیں۔

مظلوم فلسطینیوں کے معاملے پر اسرائیل کو  آڑے  ہاتھوں لیااور ببانگ دہل کہا کہ فلسطینیوں پر اسرائیل کے ظلم وستم ناقابل برداشت ہیں   ۲۰۰۸  میں غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں پر اسرائیل کے حملے کے خلاف ترکی کا احتجاج یہیں نہیں رکا بلکہ اس حملے کے فوری بعد ڈاؤس عالمی اقتصادی فورم میں اردگان نے اسرائیلی صدر شمعون پیریز کو ان کے ملک کے جرائم کی تفصیلات دو ٹوک اور برملا انداز میں بیان کیں۔ اس کے بعد اجلاس کے کنوینر کیک نے انہیں اجلاس سے خطاب کا موقع نہیں دیا۔ چنانچہ رجب طیب اُردگان نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور فوری طور پر وہاں سے واپس چلے گئے۔ اس واقعہ نے انہیں عالم اسلام کا ہیرو بنا دیا اور وطن واپس پہنچنے پر فرزندانِ ترکی نے اپنے ہیرو کا والہانہ انداز میں استقبال کیا۔ استنبول ائیرپورٹ پر پانچ لاکھ سے زائد شہری جمع ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیئے: جشن میلاد النبی ﷺ کے تقاضے

بات یہاں پر ختم نہیں ہوئی، انہوں نے مئی ۲۰۱۰ کے اواخر میں محصور فلسطینیوں کے لئے امدادی سامان سے لدے کئی بحری جہاز  آزادی بیڑے کے نام سے مقبوضہ غزہ کی جانب روانہ کئے۔ ۳۱ مئی کو جب یہ بیڑا مقبوضہ علاقوں کے قریب پہنچا تو اسرائیلی فوج نے اُن پر فائرنگ کردی اور نو (۹) ترک شہریوں کو شہید کرڈالا۔ اس واقعہ میں اردگان ایک بار پھر عالم عرب کے ہیرو بن کر ابھرے ۔عرب ملکوں اور ان کے عوام اور میڈیا نے ترکی اور اردگان دونوں کو بے پناہ سراہا۔ جبکہ متعدد عرب صحافیوں نے انہیں قائد منتظر قرار دیا۔

صدر اُردگان عالم اسلام کے وہ واحد حکمراں ہیں، جنہوں نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما کی پھانسی پر ترک سفیر کو ڈھاکہ سے واپس بلالیا  تھا۔

۱۵ جولائی 2016 کی شب ترک فوج کے ایک دھڑے نے اچانک ہی ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کردیا لیکن اردگان کی اپیل پر ہزاروں ترک عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ جن میں خواتین، بچے اور بوڑھے سب ہی شامل تھے۔وہ ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے ، اپنی جانیں قربان کرنے کے جذبے سے نکلنے والے ترک شہریوں کے آگے فوج کی ایک نہ چلی اور وہ ناکام ہوئے۔ اس واقعہ سے یہ ثابت ہوا کہ اصل حکمران وہ ہے ، جو عوام کے دلوں پر حکومت کرے۔  اس کے بعد ترک فوج اور بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرکے گندے انڈے نکالے گئے۔

یہ بھی پڑھیئے: تعلیم: انقلابی اقدامات کی ضرورت

نئے صدارتی نظام کے تحت ۲۵ جون ۲۰۱۸ کو ترکی میں انتخابات ہوئے اور اُردگان پہلے سے زیادہ بھرپور اکثریت کے ساتھ ترکی کےصدر منتخب ہوگئے۔

رجب طیب اردگان ۲۸ اگست 2014 سے ترکی کے صدر ہیں۔ اس سے پہلے وہ 14 مارچ ۲۰۰۳ سے۲۸ اگست 2014 تک وزیراعظم رہے اور ۱۹۹۴ سے ۱۹۹۸ تک استنبول کے مئیر کی حیثیت سے شہریوں کے دل جیت لئے۔ وہ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے سربراہ ہیں۔

اردگان 26 فروری 1954 کو استنبول کے ضلع بے اوغلومیں واقع ایک محلے قاسم پاشا میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد احمد اردگان نے انہیں ایک دینی مدرسے میں داخل کرادیا، جہاں انہوں نے قرآن پاک حفظ کیا اور بنیادی دینی تعلیمات حاصل کیں۔ اس کے بعد وہ استنبول شہر کے مرکز میں آباد ہوگئے اور وہاں اعلیٖ تعلیم حاصل کی۔

اُن کی اہلیہ امینہ اردگان بھی اس سفر میں ان کی شریک ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں، جن میں دو صاحبزادے اور دو ہی صاحبزادیاں ہیں۔

.نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں    

loading...
loading...