مطالعے کی اہمیت اور سیاسی جماعت کے قیام کا ایک تاریخی واقعہ

KNIGA-SAEM

بچپن سے اساتذہ مشورہ دیتے آئے ہیں کہ مطالعہ کا شوق پیدا کرو آگے چل کر بہت کام آئے گا۔ اس وقت ہمیں یہ صرف افسانوی باتیں ہی لگتی تھیں، لیکن جب شوق پیدا ہوا تو جانا کہ  یہ زندگی کی کئی حقیقتوں سے کس طرح روشناس کرواتا ہے۔ کس طرح آپ کا مطالعہ حال اور ماضی کی اہم  حقیقتوں کا پردہ فاش کرسکتا ہے۔

مثال کے طور پر بروز پیر ٹی وی پر ہمارے وزیر اعظم عمران خان صاحب دورہ چین میں سینٹرل پارٹی اسکول کی تقریب سے خطاب کررہے تھے ، اسی دوران ان کے الفاظ سماعت سے ٹکرائے جس کا مفہوم تھا کہ انہوں نے کرکٹ کو خیرباد کہہ کر 1996 میں بدعنوانی کے خلاف اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا اور  سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی۔

یہ سنتے ہی دماغ کی گھنٹی بجی، چند اوراق نظروں کے سامنے ایک ڈیجیٹل سلائیڈ کی مانند گھوم گئے، کچھ کتابیں اور تحریریں یاد آئیں جن میں تفصیلاً بتایا گیا تھا کہ عمران خان نے اپنی سیاسی جماعت تحریک انصاف کی بنیاد کس طرح اور کن حالات میں رکھی۔ اب اگر یہ تاریخی موضوع چھڑ ہی گیا ہے تو آپ کو بھی بتاتے ہیں حقیقتاً پاکستان تحریک انصاف کس طرح وجود میں آئی۔

عمران خان اپنی کتاب ‘Pakistan: A personal history’ میں لکھتے ہیں کہ سیاست میں آنے سے قبل انہیں تین بار سیاست میں آنے کی دعوت دی گئی، پہلی بار جنرل ضیاء الحق نے اس وقت عمران خان کو دعوت دی جب نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے اور وزیر اعظم جونیجو کی حکومت ضیاء الحق کے ہاتھوں برطرف ہوچکی تھی۔

کتاب کے مطابق عمران خان ان دنوں لندن میں تھے اور سسیکس کاؤنٹی کھیل رہے تھے۔ ایک روز انہیں پاکستان سے ایک کال آئی جو ان کے دوست اشرف نوابی کی تھی، اشرف نوابی نے پوچھا کہ کیا آپ جنرل ضیاء کی کیبنٹ کا حصہ بننا چاہیں گے؟ عمران خان نے شائستگی سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ وہ اس عہدے کے قابل نہیں ہیں۔

دوسری بار عمران خان کو نواز شریف نے ورلڈ کپ جیتنے کے بعد سیاست میں آنے کی دعوت دی، جبکہ تیسری بار جب کاکڑ فارمولے کے تحت نواز شریف کی حکومت کو مستعفی کیا گیا تو نگراں وزیر اعظم معین الدین قریشی نے عمران خان کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت دی۔ لیکن تب بھی عمران خان نے معذرت کرلی۔

انہوں نے لکھا کہ ملک و سیاست کے حالت انہیں پریشان کررہے تھے، جبکہ سیاست خود ان کا پیچھا کررہی تھی۔ اس دوران پرنٹ میڈیا کے نمائندوں نے متعدد بار ان سے سوال کیا کہ کیا وہ سیاست میں قدم رکھیں گے؟ لیکن ہر بار انہوں نے جواب میں انکار ہی کیا۔

لیکن پھر دو ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے خان صاحب کو سیاست کے دلدل میں دھکیل دیا۔ وقت تھا اکتوبر 1994 کا، شوکت خانم ہسپتال مکمل ہوچکا تھا، عملہ بھی رکھا جاچکا تھا لیکن علاج شروع کرنے کیلئے فنڈز ختم ہوچکے تھے۔ عمران خان نے اپنی کتاب میں بتایا کہ اس وقت کہیں سے فنڈنگ نہیں مل رہی تھی اور آغاز کیلئے کم از کم چار ملین ڈالرز کی ضرورت تھی۔ ایسے میں ان کے ایک ساتھی طاہر علی خان نے مشورہ دیا کہ ایک بڑا سا ڈبہ اُٹھا کر ڈسکہ چلتے ہیں، لاکھوں کروڑوں کوئی دے نہیں رہا، کیوں نہ عوام سے دس بیس روپے جمع کئے جائیں۔

عمران خان کو ترکیب پسند آئی اور انہوں نے ایک بڑا سا ڈبہ اٹھا کر شہر کا چکر لگایا، کچھ ہی دیر میں پانچ لاکھ روپے   جمع ہوچکے تھے۔ تجربہ کامیاب رہا اور پھر پورے ملک کے تعلیمی اداروں بازاروں اور سڑکوں پر یہی مہم چلی۔ سات ہفتے بعد جب مہم اختتام کو پہنچی تو جہاں چالیس لاکھ ڈالرز کی جرورت تھی وہاں پچاس لاکھ ڈالرز جمع ہوچکے تھے۔ یعنی ایک ملین ڈالرز اضافی۔

عمران خان کہتے ہیں کہ اس مہم سے وہ جان گئے تھے کہ پاکستان کے عوام کتنے کشادہ دل ہیں اور ان پر کتنا اعتماد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق  یہی وہ وقت تھا جب انہوں نے سنجیدگی سے سیاست میں  آنے کیلئے سوچنا شروع کردیا، ساتھ ہی اردگرد کے لوگوں سے اس کا ذکر بھی شروع کردیا۔ یہ باتیں اس وقت سے ان حکمرانوں سے چھپی نہ رہ سکیں جو کپتان کی کامیاب چندہ مہم دیکھ چکے تھے۔

اکتوبر میں فنڈز جمع ہوئے تو دسمبر میں ہسپتال کے افتتاح کا فیصلہ ہوگیا۔ عمران خان اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ آصف علی زرداری نے انہیں پیغام بھیجا کہ وہ اسپتال کا افتتاح کرنا چاہتے ہیں۔ کپتان نے افتتاح تو ایک کینسر کی مریضہ بچی کے ہاتھوں کروایا، لیکن وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کو مہمانوں تک میں بھی نہیں مدعو کیا۔

اب عمران خان کو بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی ناراضی کا سامنا تھا۔ روزنامہ جنگ کی سولہ مارچ  1996 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بینظیر بھٹو نے پی ٹی وی پر چلنے والے عمران خان کے اشتہارات رکوا دئے اور فنڈز جمع کرنے کیلئے جو ٹرانسمیشن چلتی تھی وہ بھی بند کروا دی گئی۔ شوکت خانم کو رمضان المبارک میں جو چندے کا ایک بہت بڑا حصہ ملتا تھا جو اشتہارات کی بندش کے باعث نقصان کا شکار ہوگیا۔

انہیں حالات میں جب لیڈی ڈیانا نے شوکت خانم کا دورہ کیا تو عمران خان اوراسپتال کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ جو اس وقت کے سیاست دانوں کو شاید خطرے کی گھنٹی لگی۔ ایک سال تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور پھر وہ ہوا جس نے سب کچھ بدل دیا۔

14 اپریل 1996 کی صبح عمران خان ایک مشہور کاروباری شخصیت نسیم سیہگل کو ہسپتال کا دورہ کروانے کی تیاری کررہے تھے کہ ہسپتال میں بم دھماکہ ہوگیا۔ جس میں دو کینسر کے مریض بچے جان کی بازی ہار گئے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا کسی ہسپتال میں ہونے والا پہلا بم دھماکہ تھا جس میں سات افراد ہلاک جبکہ 35 کے قریب زخمی ہوئے۔ جبکہ کروڑوں روپے کا نقصان الگ ہوا۔

بینظیر اسی دن زخمیوں کی عیادت اور عمران خان سے ملے ہسپتال پہنچیں، لیکن عمران خان ان سے اتنے ناراض تھے کہ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی ہسپتال سے روانہ ہواگئے۔ اگلے دن جب عمران خان سے پوچھا گیا کہ آپ نے وزیر اعظم کا استقبال کیوں نہیں کیا تو روزنامہ جنگ کی 16 اپریل 1996 کی رپورٹ کے مطابق ان کا جواب تھا کہ بینظیر نے ڈرامہ کیا، انہوں نے کہا حکومت سے تعلقات صرف اسی صورت ٹھیک ہوسکتے ہیں جب حکومت اشتہارات کی بندش سے ہونے والا نقصان پورا کرے۔

دوسری جانب نواز شریف بھی اسی دن اسپتال پہنچے تو عمران خان نے ناصرف ان سے ملاقات کی بلکہ  ان کی تعریف بھی کی اور کہا کہ نواز شریف نے اپنے دور میں ہسپتال کی تعمیر میں کوئی رکاوٹ نہیں پیدا کی۔ اس دوران ایک سوال کے جواب مین ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے نہیں بلکہ تبدیلی چاہنے والوں کے ساتھ ہیں۔ اب قسمت کا کھیل دیکھئے کہ جب وہ یہ بات کہہ رہے تھے تو ان کا اشارہ نواز شریف کی طرف تھا کیونکہ وہی اس وقت حکومت کی تبدیلی کیلئے سیاسی مہم چلا رہے تھے۔

روزنامہ جنگ کی 26 اپریل 1996 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دھماکے کے گیارہ دن بعد عمران خان نے لاہور کے ایک ہوٹل میں پریس کانفرنس کی اور سیای جماعت ‘تحریک انصاف’ کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے جو جماعت کا مشور پیش کیا اس میں وی آئی پی کلچر کے خاتمے، تور پھوڑ اور منفی سیاست سے گریز، کرپشن اور بیروزگاری کے خاتمے جیسے نکات شامل تھے۔ منشور میں کہا گیا کہ وہ کٹھ پتلی وزیر اعظم کبھی نہیں بنیں گے۔ انہوں نے نوجوانوں اور خواتین سے ساتھ دینے کی خصوصی اپیل کی اور وعدہ کیا کہ وہ شرمناک ماضی کے حامل لٹیروں کو تحریک انصاف میں کبھی شامل نہیں کرین گے۔ ویسے تو یہی ایک تہلکہ خیز اعلان تھا لیکن اس اعلان کے وقت ان کے ساتھ دو رشتے داروں اور چند دوستوں کے علاوہ کوئی نامور چہرہ نہیں کھڑا تھا۔

اس اعلان کے بعد وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے کہا کہ عمران خان سیاست میں تو آگئے ہیں لیکن امید ہے ‘بال ٹیمپرنگ ‘ نہیں کریں گے۔ جس پر کپتان کا جواب تھا کہ محترمہ نیوٹرل امپائر رکھیں ، پھر دیکھیں بال ٹیمپرنگ کون کرتا ہے۔ انہی دنوں روزنامہ جنگ میں ایک رپورٹ چھپی جس میں کہا گیا کہ  ‘تحریک’ کے نام سے بننے والی سیاسی جماعتیں پاکستان میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں۔

عالمی سطح پر بھی تحریک انصاف کے قیام پر دلچسپ ردعمل دیکھنے کو ملا، بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا میں عمران خان کو بنیاد پرستوں کا ساتھی لکھا گیا، جبکہ آسٹریلوی میڈیا نے تحریک انصاف کے منشور کو تصوراتی قرار دیا۔ بی بی سی اور وائس آف امریکہ نے لکھا کہ عمران خان کا تبدیل کا منشور غیر واضح ہے۔

لیکن ان سب کے باوجود پاکستان تحریک انصاف پاکستان کی بڑی سیاسی طاقت بن کر سامنے آئی بلکہ آج عمران خان وزارت عظمیٰ کے عہدے تک پہنچ چکے ہیں۔ تو جناب یہ تھی تحریک انصاف کے قیام کی اصل داستان۔ جس کو بیان کرنا بنا مطالعے کے ممکن نہیں تھا۔

اب آخر موجودہ دور کے طالب علموں سے گزارش ہے کہ ملک اور دنیا کے حقیقی ماضی کو جاننا چاہتے ہیں تو سنی سنائی باتوں پر دھیان دینے کے بجائے خود مطالعہ کریں، کیونکہ مطالعہ ہی ایک ایسا شوق ہے جو آپ کو محفل کی جان بنا سکتا ہے اور لوگوں کی نظروں میں آپ کیلئے
عزت پیدا کرسکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے،  ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔    

loading...
loading...