شمع اور پروانے

1300619-ourexclusiveconceptartbyarnaudvalettegameofthronesmarvelstudios-1484819469-504-640x480

فائل فوٹو

نور الدین زنگی نے مصر کے سرحدی علاقے پر موجود فرنگیوں کے قلعے پر جب فوج کشی کا ارادہ کیا تو صلاح الدین ایوبی کو اپنی فوج سمیت پہنچنے کا حکم دیا۔ پہلے تو صلاح الدین اس بات پر آمادہ ہوگیا لیکن کچھ بےعقل ساتھیوں نے صلاح الدین کو اس بات پر قائل کرلیا کہ اگر بیچ میں سے یعنی مصر کی سرحدسے قلعہ ہٹ جاتا ہے تو نورالدین زنگی کیلئے مصر پر قبضہ کرنا آسان ہوجائے گا۔

صلاح الدین کویہ  بات معقول معلوم ہوئی اور اس نے نور الدین کو یہ پیغام بھیج دیا کہ مصر کے اندرونی خلفشار کے سبب وہ قلعہ کرک نہیں آسکے گا۔ نورالدین اس عذر سے مطمئن نہ ہوا اور خود مصر کی فوج کشی کا ارادہ کیا۔ یہ خبر جب صلاح الدین کو ملی تو اس نے اپنے لوگوں سے مشورہ کیا۔ جس پر اس کے نوجوان بھتیجے تقی الدین نے کہا کہ ہم سلطان کےخلاف لڑیں گے۔ صلاح الدین کے والد نجم الدین نے اُسے ڈانٹ کر چپ کرایااور کہا مجھ سے اور تیرے ماموں شہاب الدین سے زیادہ تیرا خیرخواہ کون ہوسکتا ہے لیکن سلطان نے اگر ہمیں تیری گردن مارنے کاحکم دیا تو ہم اس کی تعمیل کریں گے۔ پھر تمام مشیروں اور امراء کے چلے جانے کے بعد نجم الدین نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اپنے خیالات کا لوگوں کے سامنے اظہار مت کیاکرو۔ مجھ سمیت ان میں سے کسی میں بھی اتنی ہمت نہیں کہ سلطان کے سامنے زمین بوس نہ ہوسکیں۔

یہ تاریخِ اسلامی کا عجب واقعہ ہے۔ صلاح الدین ایوبی جیسے مدبر آدمی کے گرد بھی ایک ٹولا ایسا موجود تھا جو اُسے حماقتوں پر اکسانے اور اُسے قائل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔لیکن ایسے میں اس کے باپ کا تجربہ اور سلطان کی اطاعت دوایسی چیزیں تھیں جنہوں نے اس کو کسی قسم کی بےوقوفی سے باز رکھا۔ طاقت چیز ہی ایسی ہوتی ہے۔ اپنے گرد خوشامدیوں، موقع پرستوں اور مداریوں کی بھیڑ لگا دیتی ہے۔ اور ان میں ناجانے کیسا طلسم ہوتا ہے جو عقل کی آنکھیں چُندھیا دیتے ہیں۔ اب اس سے ہی اندازہ لگا لیجئے صلاح الدین جیسا شخص شیشے میں اُتارا جاسکتا ہے تو ہمارے لیڈران اس سطح کا تدبر کہاں رکھتے ہیں۔تدبر ایک طرف رکھیے، انہیں تو پسند ہی یہ ہے کہ ان کے ارد گرد خوشامدی اکٹھے رہیں۔ دربار لگے اور مسخرے بادشاہ سلامت کو خوش کریں۔ مشیر مشورے عقل کے تقاضوں کو خاطر میں لاتے ہوئے نہیں بلکہ ان کی ذاتی اناء کی تسکین کو دیکھتے ہوئےکریں۔ پاکستان کی سیاست اس پرلے درجے پر پہنچی ہی اس لئے ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: دنیا کیلئے خطرناک نیوکلیئر فضلا

میں کسی مخصوص جماعت کی بات نہیں کررہا تقریباً سب کا ہی یہ حال ہے۔ سب اخلاقیات کے بجائے مفادات کی سیاست میں لگ گئے ہیں۔ جوجماعتیں کسی اخلاقیات پر کھڑی ہوئی دِکھتی تھیں پچھلے دنوں وہ بھی کھُلے عام اخلاقیات کے پرخچے اڑاتی دِکھائی دیں۔پہلی بار اقتدار میں آنے والی جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے بعض چیزیں ایسی ہوئیں جس پر یہ ماضی میں  کڑی تنقید کرتے آئے تھے۔ اس حکومت کیلئے سب سے بڑا جھٹکا یہی تھا کہ جس دعوے پر یہ انتخابات جیت کر آئے سب سے پہلا استعفیٰ اس ہی کی جانب سے آیا۔ چلیں  یہ جان کر اطمینان ہوا کہ ناصر درانی  جیسے کچھ گنتی کے لوگ ابھی موجود ہیں جو فواد حسن فواد، احد چیمہ یا عطاء الحق قاسمی کی طرح اپنے وقار کا سودا چند کوڑیوں کی مول نہیں کرتے۔ مگر ہر دلعزیز  وفاقی وزیر اطلاعات  یہ بات کھلم کھلا کہہ چکے ہیں کہ جو احکامات نہیں مانےگا گھر جائے گا۔  یعنی اگر کوئی بیوروکریٹ بحث کرنے کی جرات یا اختلاف کرنے کی مجال رکھتا ہو تو اس کا دربار میں کوئی کام نہیں۔ حضور یہ درس آپ انہیں کیا دیں گے جن میں اتنی جرات ہو وہ تو جراتمندی کا مظاہرہ کرکے خود ہی کنارہ اختیار کرلیتے ہیں کیونکہ تالاب میں رہنے کیلئے مگرمچھ سے دوستی وہی کرتا ہے جس میں  چاپلوسی یا ہاں میں ہاں ملانے کا عنصر پایا جاتا ہو۔

ہر دور میں بڑے لوگ آتے ہیں اور انہیں ان کے حصے کے بےوقوف و خوش آمدی لوگ ملتے ہیں لیکن یہ اس بڑے آدمی کی بصیرت ہوتی ہے کہ وہ کن پر تکیہ کرتا ہے۔ صلاح الدین کی طرح ایک جانب بھتیجہ اور دوسری جانب باپ بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی نور الدین کے بلاوے پر نہ جاکر ایک غلطی کرنے کے بعد بھتیجے کی باتوں میں آکر دوسری غلطی  کر نا کچھ مشکل نہ تھا لیکن تجربہ کار باپ نے پہلی غلطی کا وبال اتارنے کے واسطے صلاح الدین کو راہ دِکھائی۔ لیکن یہ  مکمل طور پر صلاح الدین کے ہاتھوں میں ہی تھا کہ وہ کس راہ کو اختیار کرتا۔

.نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں    

loading...
loading...