ماں

kids-kissing-mom

مقدس آیتوں جیسی ہے وہ اُس پہ کیا لکھوں

مہرباں راستوں جیسی ہے اُس پہ کیا لکھوں

اُسی کے دم سے مجھے آج جینے کا سلیقہ ہے

وہی میرا راستہ ہے ، جو اس کا طریقہ ہے

امّی کا پیار ہے جو روح بن کر مجھ میں رہتا ہے

میرا ہر غم، امّی کا دل ہمیشہ سہتا ہے

وہی ہے جس نے مجھے دنیا میں جینا سیکھایا ہے

امّی کے نام پر ہر سانس میرا مسکرایا ہے

خوشی کے واسطے سب کی، وہ خود کو بھول جاتی ہے

بڑے ہی چاؤ سے اپنے آپ کو سجاتی ہے

مٹا دیتی ہے اپنے آپ کو سب کی محبت میں

گھٹا بن کر چمکتی دھوپ سے ہم کو بچاتی ہے

وہ مجھ سے کہتی ہے تم نے کبھی مجھ پر نہیں لکھا

میں اس کو کیا بتاؤں

بعض جذبے ایسے بھی ہوتے ہیں

کہ ان کو لفظوں میں کبھی سمجھا نہیں سکتے

کس کو چاہتے ہیں کتنا یہ بتلا نہیں سکتے

میرا نور ہے، وہ سر سے پاؤں تک محبت ہے

میری ہستی اُسی سے ہے اُسی سے میری عزت ہے

کہ جس کے قدموں میں جنت پڑی ہو اس پر کیا لکھوں

کہ جس کے دم سے میری زندگی ہو اس پر کیا لکھوں

بتا دو آج پیاری ماں کہ اب میں تم پر کیا لکھوں
_________________________________________________________________________________________

loading...
loading...