‘‘تکلف برطرف ’’خدا دلِ فطرت شناس دے تجھ کو

agritourasm

قدرت کی نیرنگیاں چہارسو بکھری ہوئی ہیں ۔ ان دلفریب مناظر اور دلرُبا لہلہاتے کھیتوں اور باغوں میں قدرت کی صناعی کے ایسے شاہکار میّسر ہیں ، جن کے مشاہدہ سے انسان نہ صرف اپنے رب کی پہچان تک پہنچ پاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی ذہنی و جسمانی صحت اور اپنے رہن سہن و طرز اخلاق و کردار کو بھی نکھارتا چلا جاتا ہے۔

روشنیوں اور رنگوں کی ایک دنیا ہے جس میں ہم جی رہے ہیں۔ چہار جانب ایسا سماںّ ہے جو نظروں کو خیرہ اور عقل کو محو کئے دیتا ہے ۔زندگی اتنی تیز رفتار ہوگئی ہے کہ عمر کے لمحات کم محسوس ہونے لگے ہیں ۔ وقت یوں کھسکتا جاتا ہے جیسے مٹھی سے ریت بھاگ دوڑ اور مصروفیت کے ایسے لبادے ہیں جو سکون کو قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتے۔ گھروں میں دیواریں اور ان کے بیجوں بیج کمرے در کمرے،کمروں کے باسی ایک دوسرے سے دور بلکہ اپنے آپ سے بھی بہت دور ہوتے چلے جاتے ہیں ساری دنیا بے وقت ہو کر ایک موبائل فون میں آسمائی ہے۔ تو یہ سب کیا ہے؟

یہ سب اس مصنوعی فضا کے کرشمے ہیں جس نے ہم سے ہمارا اپنا آپ چھین لیا ہے، خود شناسی ، خود فراموش میں تبدیل ہوگئی ہے جبکہ فطرت شناسی کو عیاری و مکاری کے نقابوں میں کہیں دفنا دیا گیا ہے۔ دولت اور اسٹیٹس کا ایسا نشہ چڑھا ہے کہ ہر کس و ناکس کی پہچان بڑی سے بڑی کوٹھیاں ، گاڑیاں شاپنگ مالز اور دکھاوے کے ہزار سامان جو زندگی کے ہر صفحے پر بکھرے نظر آتے ہیں۔ یہ سب آلات جدیدہ مل ملاکر ایک مصنوعی دنیا اور مصنوعی نسل تخلیق کرنے میں لگے ہوئے ہیں مصنوعیت ایک سیلاب بلا کی صورت سوشل میڈیا پر وار ہوچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: سوشل میڈیا کی فتنہ انگیزی

جس کے نتیجہ میں سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنے والا طبقہ ایک دھوکے کی دنیا کا باسی بن کر سامنے آ رہا ہے۔ تمام تر فرائض ، پندونصائح، تعلیم و ترغیب اس میڈیا پر انجام دے کر ہر شخص یہ سمجھ رہا ہے کہ اس نے اپنا فرض ادا کر دیا۔         ایسے ماحول میں طارق تنویر چیف ایگزیکٹیو ایگری ٹورازم کار پوریشن جیسے افراد جو نئی نسل کو فطرت سے قریب تر کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں کی حوصلہ افزائی نہ صرف اشد ضروری ہے بلکہ تقاضہ وقت ہے ۔اسی طرح ڈاکٹر خالد محمود شوق چیف ایڈیٹر ویٹرنری نیوز اینڈویوز کے عزم کو داد دینا پڑتی ہے کہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اور فطرت شناسی کو ایک تحریک کی شکل میں میڈیا کے مؤثر پلیٹ فارم سے چلا رہے ہیں جس کا مثبت نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ اب حکومت پنجاب کے ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے ایگری ٹورازم کو باقاعدہ اپنی سر پرستی مہیا کر دی ہے اور عام لوگوں کی ترغیب کے لیئے میلوں اور تہواروں کو سرکاری سطح پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

فطرت شناسی درحقیقت اپنی پہچان کا دوسرا نام ہے۔ انسان جب اپنے آ پ کو فطرت سے ہم آہنگ کرتا ہے تو دراصل اپنے درست مقام کا تعین کر لیتا ہے اور یہ ہم نشینی اسے قدرت سے قریب تر لے آتی ہے۔ وہ ان مقاصد کو سمجھنے کا قابل ہو جاتا ہے جس کی تکمیل کے لیے اس ساری کائنات کا نظام ترتیب دیاگیا ہے ۔ مصنوعی اور ظاہری چمک دمک کی دنیا اسے حقیقت سے دور اور فطرت سے ناشناس کر دیتی ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ بے سکونی اضطراب اور ہیجان ہے جو فساد فی الارض میں تبدیل ہوجاتا ہے اور خالق کائنات کے مقاصد تخلیق کائنات سے دور کریتا ہے۔

آج کی نسل کو فطرت شناسی کا ہنر سکھانے کی ضرورت روز افزوں بڑھتی جارہی ہے۔ ہمارے بچے جس ماحول میں پرورش پا رہے ہیں۔ وہ ان کی صحت اور اخلاق دونوں کے لیے مضر رساں ہے۔ ہمیں جدید تخلیقات کی افادیت سے انکار نہیں کیونکہ ان جدّتوں نے دنیا کو بہت سیکٹر کر ایک گلوبل ویلج کو حقیقت کی شکل دے دی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ معلومات کو تیز ترین اور عام آدمی کی دسترس میں دے دیا ہے معاشروں کی ترقی اور بڑھوتری اب ان کے بغیر ممکن نہیں لیکن میں جس بات پر زور دینا چاہتا ہوں وہ ذہن اور سوچ کے زاویوں کوا یک پیراڈائم میں منعکس رکھنے کی کوشش ہے ۔

جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رہ کر اپنی انفرادیت کو قائم رکھا جاسکتا ہے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے صرف ترجیحات کو ترتیب دینے کی ضرورت ہے نوجوانوں کو باور کرانہ چاہیے کہ وہ اپنے آپ کے لیے کچھ وقت نکالے اپنی سوچ اور فکر کو فطرت کے مقاصد سے ہم آہنگ کریں مغربی تہذیب کے حصار سے باہر نکلے اپنے دین مذہب اخلاق کردار اور روایات سے جڑے رہ کر جدید دنیا میں اپنا مقام پیدا کریں۔

یہ بھی پڑھیئے: سوشل میڈیا دنیا اب گلوبل و یلج کی بجائے لوکل ویلج بن گئی

ایگری ٹورازم کا مقصد بھی یہی ہے کہ اپنی نسل کو صحت مند ذہن خوراک اور سرگرمیوں میں مشغول رکھا جائے تا کہ وہ ترقی کے ساتھ ساتھ جدت کے مضر اثرات سے بھی بچ سکے آزاد فضاؤں کے پنچھی مصنوعی قید خانوں میں اپنی صلاحتیوں کو ضائع کرنے کی بجائے فطرت کے قرب سے اپنے آپ کو مقاصد کائنات کی تکمیل کے لیئے تیار کریں، شہروں کی آلودہ فضا سے باہر نکل کر کچھ وقت صاف شفاف کھلی ہوادار فضا میں گزاریں تا کہ ان کے ذہن اور جسم صحت مند نشوونما پا سکیں صحت بخش خوراک کے لیئے انہی ذرائع و وسائل پر انحصار کریں جو صدیوں سے ہمارے زیر استعمال ہیں اور قدرت نے موسم و حالات کے مطابق مفید اجزا کے ساتھ ہمیں عنائیت کی ہیں اپنے کلچر سے جڑے رہنا بھی تہذ یبوں کی بقاء اور ارتقاء کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

ایگری ٹورازم اسی کلچر میں اپنے آپ کو زندہ و بیدار رکھنے کا نام ہے ریا و دکھاوے سے پاک غرور اور تکبر سے پرے سادگی و دلکشی سے مزین سلیقہ شعار زندگی ذہنی و جسمانی صحت عطا کرتی ہیں اور معاشرے کو ہم آہنگ اور تواناء رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ ایگر ی ٹورازم انہی مقاصد کے سامنے رکھتے ہوئے اب تحریک کی شکل اختیار کر گئی ہے جس کا دست وبازو بننا ہمیں اپنے آپ سے جڑے رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

.نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں

 

loading...
loading...