زندگی گزارنے کا ڈھنگ بدل ڈالئے

One man stands and looks past and future.

کچھ عرصہ قبل میری زندگی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے مجھے چند سیکنڈوں میں اپنے آپ سے ملا دیا، مجھے ان اوقات میں ایسا لگا کے میں چند گھنٹے اپنوں کے بیچ ہوں اور اب وقت آ گیا ہے کہ میرا ان کا ساتھ ختم ہو جائے گا۔

اس دوران مجھے اس چیز کی کوئی فکر نہیں تھی کہ میں نے آج کون سے کام نمٹانے ہیں، میرا آج کا دن کس طرح گزرے کا ، کیا پکانا ہے کیا کھانا ہے۔۔۔ کچھ نہیں، زہن میں الفاظ  تھے تو بس یہ کہ “تھو ڑی مہلت ” مل جائے۔

مہلت کس چیز کی اپنوں کے بیچ رہنے کی اچھے سے اچھا وقت گزارنے کی، جو ہم عام دنوں میں یوں ہی گزار ریتے ہیں ایک دوسرے کی اہمیت کو نظر انداز کر کے۔  اپنے اختلافات کی بناء پر لڑ جھگڑ کر، ایک دوسرے کو نیچا دیکھا کر۔ صرف اس لئے کہ اپنی انا کو تسلی دے سکیں۔

میں نے کئی ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو روز یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی سے خوش نہیں ، ہمارے حالات ٹھیک نہیں ، ہماری تنخواہ میں تھوڑا اضافہ ہو جائے تو فلاں کام آسانی سے مکمل ہو سکے گا اور اسی طرح کی کئی باتیں جو دل میں احساس محرومی پیدا کرتی ہیں۔

لیکن کیا کبھی کسی سے سوچا کہ ان تمام افراد کے پاس کتنی دولت موجود ہے جسے وہ نظر انداز کر دیتا ہے، کتنا سکون سے جسے وہ بے سکونی کا نام دیتے ہیں، گھر کا ہونا ، ایک چھت کا ہونا ، مکمل تین وقت کا کھانا ہونا ، اولاد کی نعمت، بچوں کو چہچہانا ، گھر میں بزرگوں کی موجودگی یہ تمام چیزیں کیا کسی دولت سے کم ہیں؟ ہر گز نہیں  مگر پھر بھی ہم اچھے سے اچھے کی تلاش میں اپنے دن رات تباہ کر رہے ہیں اور وجہ کیا صرف ایک کہ ہم اپنے آپ میں اپنے موجود میں  اپنے حال میں خوش نہیں، ضرورتوں کو بڑھا لینا ، ہمیں بے سکون کرتا جا رہا ہے اور ہم بے سکون ہوتے جا رہے ہیں ۔

زندگی جتنی سادہ ہو گی آپ کی مشکلوں میں اتنی کمی آتی ہے۔ لیکن بات ساری سمجھنے کی ہے۔ مجھے بھی یہ بات سمجھ آئی مگر زرا دیر سے۔ ہم روز کسی مشین کی طرح گزارتے ہیں، ایک دن آتا ہے اور ہوا کی طرح گزر جاتا ہے دن گزرتے اگلے دن کے کام اگلے دن کے مسئلے سامنے موجود ہوتے ہیں اور اسی طرح زندگی گزرتی جا رہی ہے، کسی کو علم نہیں کہ کتنی سانسیں باقی رہ گئی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ہم قسم کے لوگ موجود ہیں ، کچھ اپنے حالات پر رونے والے کچھ حالات پر شکر کرنے والے اور کچھ اپنے حالات صحیح ہونے کے باوجود بیزاررہنے والے۔ یہاں مجھے معروف مصنف و ڈرامہ نگار اشقاق احمد کی بات یاد آ گئی ان کا اپنی کتاب زاویہ میں اس حوالے سے کہنا تھا کہ اگر آپ کے پاس رہنے کو اچھا گھر، گھر والے اور تین وقت کا کھانا موجود ہے تو یقین کیجئے آپ ایک با حیثیت شخص ہیں، لیکن لوگ یہ بات سوچنے اور سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اسی حوالے سےایک مشہور انگریزی قول ہے،

Yesterday is history, tomorrow is a mystery, and today is a gift, that is why it is called the present.

اس قول پر عمل کرتے ہوئے کیوں نہ ہم ہر دن کو ایک تحفے کی طرح قبول کریں  اور بھر پور انداز میں گزاریں، ہمارے اپنوں کو  ہماری ضرورت ہے ہمارے ساتھ کی، دوسروں کے عیبوں کو نظر انداز کریں ان کی کمی کو بتانا اور عیبوں کو اجاگر کرنا ایک غیر اخلاقی عمل ہے۔ اگر ہم یہ سوچ لیں کہ ہر دن
ہمیں ایک تحفے کے طور پر ملا ہے تو ہم ہر دن بھر پور انداز میں گزار سکتے ہیں اور اپنی زندگی کو خوشگوار بنا سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔  

loading...
loading...