شادی کن کی ہونی چاہیے؟

Image result for marriage pakistan

فائل فوٹو

شادی ایک ایسا سوال ہے جو میٹرک کے بعد سے ہی سب کے دماغ میں جگہ بنا ہی لیتا ہے، کوئی کوئی تو ایسے ہوتے ہیں جو اس پر عمل کرنے کی جستجو میں بڑے انہماک کے ساتھ مصروف ہوجاتے ہیں۔ شادی کی اصل عمر کا تعین تو اب تک بیان نہیں ہوپایاالبتہ کمائی جب بھرپور ہوجائے تو شادی خود بخود ہو ہی جاتی ہے۔۔یا پھر جدی پشتی کاروبار چل رہا ہو تو جلدی شادی کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں۔

شادی ایک خواب بھی ہے اور ایک حقیقت بھی۔ اب یہ بھی کہیں نہیں لکھا کے شادی کے نتائج ہمیشہ مثبت ہی ہوں گے۔ گر ہم سفر اچھا ہو تو زندگی کا سفر بہترین گزرتا ہے ورنہ دوائیں لینا آپ کا مقدر بن جاتا ہے زندگی بھر۔

تو سوال یہ  تھا کے شادی  کس کی یا کن کی ہونی چاہئیے ہے۔ اب اگر لڑکا ہے تو آج کل اس کو بھی گھر کے ہنر لازمی آنے چاہیئں مثلا ، چائے بنانا، کپڑے دھونا، بچوں کے فیڈر بنانا ،اور ساڑھی و فینسی ڈریس پر استری کرنا ، آنا چاہیئں ۔ ان کاموں میں برائی کوئی نہیں مگر پچھلے زمانے میں یہ سب کام خواتین ہنسی خوشی سر انجام دیتی تھیں۔

لڑکے کے لئے سب سے ضروری ہے کہ اگر وہ نوکری کرتا ہے تو اس کے پاس گاڑی و گھر ذاتی ہو ،اور اگر کچھ بینک میں بچایا ہے تو یہ سونے پہ سہاگہ والی بات ہے۔ آج کل پڑھائی و شرافت معلوم کرنے والے اور  اسے دکھانے والے بھی کم ہیں ورنہ ایک زمانہ صرف اسی کا قائل تھا اور خاندان کا شجرہ نصب اور طور طریقے دیکھ کر شادی لئے پرکھتے تھے۔

اب اگر لڑکی ہے تو بھائی خوبصورتی تو اول درجے کی ہونی لازم ہوجاتا ہے ، پھر پڑھی لکھی ہونی چائیے ۔اور اگر کماتی ہے تو یہ اعلیٰ قسمت میں شمار ہوجاتی ہے۔ لڑکی صوم صلوۃ کی پابند و گھریلو امور میں بہترین ہونے کی نشانی کو کند ذہن،دقیانوسی و پرانے زمانے سے منسوب کردیا جاتا ہے۔ جبکہ ایسا پہلے بالکل اس کے برعکس ہوتا تھا۔ آج کل کی شادیاں بھی بڑی عجیب ہیں ایک تو تعداد پسند کی شادیوں کی زیادہ ہے اور جب شادی ہوجائے تو سب سے زیادہ مشکلات بھی ان کو ہی ہوتی ہیں۔

شادی سے پہلے وفا کی قسمیں کھانے والے ہی بے وفا نکلتے ہیں اور کچھ یوں جملے نکلتے ہیں۔۔۔ “پہلے تو بولتے تھے روز امی سے ملنے چلے جایا کرنا اور اب بولتے ہو کے کیا روز روز کا تماشہ لگایا ہو
ہے”۔

“پہلے تو کہتے تھے کے تم کو بہترین چائے بنانی آتی تھی ۔۔ اب یہ گرم پانی اُبال کر لے آئی ہو۔چھوڑدو میں خود بنا لوں گا‘‘

’’یہ کھانے میں نمک اتنا تیز کیوں ہے۔۔ کھانا پکانا آتا ہے یا گپ مار ہی ہوتی تھی کیا”

” گاڑی نہیں ہے تمھارے پاس ۔۔ جھوٹ بولا تھا کے گاڑی وہ بھی نئی ہے۔جھوٹھے مکار، میں روز روز باہر کھانا نہیں کھلاسکتا میں آمدنی اتنی نہیں ہے۔۔بڑی آئی ہر روز باہر کا کھانا کھانے والی” ۔

“میرے دوست کے شوہر ہر وقت کٹ شٹ کر کے رہتے ہیں اور خوش لباس ہیں اور ایک آپ ہیں کے ملنگ بن کر گھومتے رہتے ہیں خیال ہی نہیں میری عزت کا”

“کتنا میک اپ کرو گی ۔۔ ہر وقت میک اپ بس بھی کرو اب چلو دیر ہو
رہی ہے۔‘‘ ’’ارے میں تو سمجھی تم پڑھے لکھے ہو ۔۔۔”

” میری اماں نے کہا تھا شادی سگھڑ لڑکی سے کرنا ورنہ ساری زندگی کا درد بن جائے گی۔ اور تم ہو ہی کم عقل۔۔۔”

“ارے بچے رو رہے ہیں اور تم موبائل پر اپنی اماں سے باتیں بگھارنے میں لگی ہوئی ہو”

“یار آخر کب تک ہم ایک کمرے میں گزارہ کرتے رہیں گے ۔ الگ کب ہوں گے ،تمھاری اماں کو آخر کیا مسئلہ ہے کیوں میرے کپڑوں کے پیچھے پڑی رہتی ہیں” یہ چند جملے ہم اپنے قرب و جوار میں بھی سنتے رہتے ہیں ۔

ایسا تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ۔۔ کیوں میں غلط تو نہیں بول رہا ۔۔۔؟ اور جن لوگوں کی ارینج میرج ہوتی ہے وہ لوگ ہی بڑے دلچسپ ہوتے ہیں۔۔ان کے درمیان کی نوک جھوک بھی بڑی دلچسپ ہوتی ہے۔ ’’امی یہ آپ کی پسند تھی اب آپ ہی اس کو سمجھائیں کیسے کپڑوں پر استری ہوتی ہے‘‘ ’’ میں گرم روٹی اور گول روٹی کھاتا ہوں  جاؤ امی سے پوچھ لو اور آئندہ کے لئے سیکھ لو‘‘ ’’ذیادہ روعب دکھانے کی ضرورت نہیں میں بھائی پولیس میں ہیں سب کو بند کرادوں گی‘‘ ’’ آج امی کے ہاں چلیں کیا ۔۔۔ ‘‘ ’’میرے پاس ٹائم نہیں ہے جلدی سے جوتے پولش کردو‘‘ ’’ مجھے الگ گھر لے کر دو یا پھر میرے کمرے میں ٹی وی اور اسپلٹ لگاؤ‘‘ ’’اپنی بہن کو سمجھا لو مجھ سے زبان لڑانا بند کردے ورنہ اچھا نہیں ہوگا‘‘ لکھتے لکھتے خود راقم بے قابو و آنسوں میں ڈوب گیا۔

ارے اپنی وجہ سے نہیں اپنے ایک عزیز دوست کا چہرا یاد آگیا، جو ان تمام مشکلات سے گزر رہا تھا ۔ شادی محبت کی ہو یا ارینج ۔ پیار ہو یا نہ ہو پر بچوں کی تعداد دیکھ کر آپسی محبت کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔۔ کے جوڑا کتنا کامیاب ہے؟

شادی میں محبت کے درجے ضرور ہیں اور ہر درجے پر ایک چھپا گفٹ ضرور ملتا ہے۔۔؟ یہ بات سب کے سمجھنے اور سمجھانے کی بلکل نہیں ہے بس صرف نصیحت لینے کی ہے۔ شادی کا لڈو سستا تو ہوتا نہیں پر ہضم آسانی سے نہیں ہوتا۔ بس دعا ہے بیوی ایک ہو پر نیک ہو اور اگر دو چار بھی مل جائیں تو کوئی مسلے والی بات نہیں ۔

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں

loading...
loading...