بہت نازک  صورت ِحال ہے یہ۔۔۔

48275543_2121313687949810_8377435273939648512_n

 

حال ہی میں مذہبی اسکالر،   ڈاکٹر، سیاست دان، اداکار، نیوز اینکر اور دیگر کئی فنون میں ماہر  اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ‘جانی سُن’ نے  اپنے بالوں بھرے کندھوں پر دوسری شادی کا بوجھ لادتے ہوئے کئی ‘ گولڈ ڈِگرز’ کے دل توڑ دئے ہیں۔

 انہیں اپنے اس کارنامے پر اتنا فخر ہے کہ  آئے دن کسی نہ کسی ٹی وی شو میں اپنی نئی نویلی ‘بے غم’ کی نمائش لگائے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ ٹھیک ہے خدائے برتر و اعلیٰ  نے  توفیق دی اور   کھجلےکے منہ پر بالو شاہی مل گئی، اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ  اسے ٹھیلے پر بٹھا کر  کلِو کے بھاؤ بیچا جائے ۔

شادی ایک انتہائی مقدس فریضہ ہے،چار شادیوں کی اجازت تو اسلام  بھی دیتا ہے۔ لیکن اس کا بھی ایک طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ سب کو مساوی درجہ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔  لیکن یہاں گنگا تو کیا پورا کا پورا   بحرہِ ہند اُلٹا بہہ رہا ہے۔ ایک طرف پہلی والی ناراض ہے تو اسے منانے کے بجائے دوسری والی کو پلکوں پر بٹھا کر جھولے جھلائے جارہے ہیں۔ بیٹی کا بھروسہ باپ سے اُٹھ گیا تو کوئی بات نہیں،  نیا  پرنٹر ہے  نیا پروڈکٹ لے آئیں گے۔

مانا کہ یہ کسی کی ذاتی زندگی کا  مسئلہ ہے اور ہمیں اس میں دخل اندازی یا اس کے خلاف بات کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن ہمیں  صبح سویرے  چولیاں مارتے،  چھچورپن کرتے بوتھے دیکھنے کی بھی خواہش نہیں۔ اگر اتنا ہی ذاتی مسئلہ ہے تو گھر کی عزت گھر میں رکھیں، یوں ٹی وی پر بٹھا کر   کیش نہ کریں۔

ویسے ‘مارول’  کے مداحوں کیلئے ایک بُری خبر ہے۔ ایم سی یو کا  فیورٹ مانا جانے والا کردار ‘ بلیک پینتھر’ شدت جذبات  پر قابو نہ رکھتے ہوئے پاکستان آکر احتجاج  کرنے والا ہے۔  کسی نے اسے مارننگ شو دکھا دیا ہے جس میں اس کے  حریف  ‘گلابی  پینتھر ‘ کا تذکرہ ہے۔

اللہ کسی کو اتنا بھی مکھن سے نہ نوازے کہ وہ جگہ جگہ  پوت دے،  اس منہ پر اتنی محبت عوام کو ہضم نہیں ہورہی۔  ٹھیک ہے، ہے گھر ، ہے پیسا ، ہے گاڑی۔۔۔ دو جوڑوں میں آگئی لڑکی اب لڑکی ہوئی تمہاری۔۔۔ لیکن کیا آئینہ دیکھنے کی زحمت نہیں ہوئی  کہ اس کے پس منظر میں نیت کیا ہے؟

اس شادی سے ‘گولڈ  ڈگر’ کا لفظ دماغ میں آیا، گولڈ ڈگر سے یاد آیا  زندگی میں ٹینشن بہت ہے ، سوچ رہے ہیں کوئی ‘تعویذ یا دم درود’ کروا لیں۔   ساتھ ہی  پہلی والی کیلئے ‘محبوب آپ کے قدموں میں’ والا تعوویذ بھی لکھوا لیں۔ ہم حساس  طبع   لوگ ہیں، بھابھی ماں  کا بھلا ہو جائے تو اس میں کوئی بُری بات نہیں۔

یہ تو ہوگئی تنقید ۔۔۔ اب ذرا  اصل مسئلے کی طرف آتے ہیں۔۔۔ کیا دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی کی اجازت ضروری ہے؟ مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی شخص دوسری شادی کرنا چاہتا ہو تو اسے بیوی سے اجازت لینا ہوگی۔یہ شوہر پر بیوی کا حق ہے۔ابن حمید نے توجہ دلائی کہ اعلیٰ اخلاق اور انسانیت کا تقاضا ہے کہ شوہر اپنی پہلی بیوی کے ساتھ شائستگی کا مظاہرہ کرے۔ اگر وہ سوتن لانا چاہتا ہو تو اپنی بیوی سے اس کا تذکرہ کرنا چاہئے۔ اس کی رائے لیناچاہئے اور حتی الامکان اس سے اجازت لینا چاہئے۔ اگر پہلی بیوی سوتن لانے کی اجازت نہ دے تو شوہر اس کی بات ماننے کا پابند نہیں ۔ وہ اسکے باوجود بھی دوسری شادی کا مجاز ہوگا۔ اگر کوئی انسان انصاف کرسکتا ہے ، نان نفقہ فراہم کرسکتا ہے گھر کی سلامتی کا دھیان رکھ سکتا ہے، بچوں کی پاسبانی کرسکتا ہے تو ایسی حالت میں ایک سے زیادہ شادی کا مجاز ہے۔

تو  خواتین ۔۔۔ پتا یہ چلا کہ شوہر اگر اہل ہے تو سوتن سر پر بٹھا سکتا ہے،   اس  صورت حال سے نمٹنے کیلئے آپ کو ہمہ وقت تیار رہنا  ہوگا۔ احتیاطً جائیداد اپنے نام کروا ئیں، گاہے بگاہے بیلن  ہو امیں لہرائیں، بچوں کو اپنا حمایتی  بنائیں۔

لیکن ایک دوسرا طریقہ بھی ہے۔۔۔اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ  آپ کا جیون ساتھی جس نے آپ کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی تھیں اب آپ میں دلچسپی نہیں دکھا رہا۔ رویہ روکھا پھیکا ہے ، شادی کے ابتدائی دنوں  والی دلچسپی نہیں رہی تو ہوشیار ہوجائیں۔ سوتن راستے میں ہے۔

لیکن اوپر بتائی گئی علامات پیدا کیوں ہوئیں؟  اس کی وجہ جاننا بھی تو ضروری ہے۔ خود سے پوچھیں کیا آپ اپنے شوہر سے محبت کرتی ہیں؟ اگر ہاں تو   بتائیں آپ کو ان سے محبت کس دن ہوئی؟ پھنس گئیں ناں۔۔۔؟

محبت اچانک نہیں ہوتی، اس کا کوئی دن مقرر ہے اور نہ ہی کوئی وقت ۔ محبت میں عظیم قربانیاں دینے کی ضرورت نہیں، محبت تو چھوٹی چھوٹی چیزوں کے تسلسل سے برقرار رہتی ہے۔ محبت   اس لئے قائم ہے کیوں کہ جب آپ فریج  سے پانی نکالتی ہیں تو اپنے شوہر  سے ضرور  پوچھتی ہیں کہ پیاس لگی ہے یا نہیں،  آپ  روز سونے سے پہلے  اور صبح سویرے اُٹھ کر  اظہارِ محبت کرتی ہیں، اسی طرح کی کئی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا تسلسل ہی زندگی میں محبت کو برقرار رکھتا ہے۔

  اپنے رشتے کو خوشگوار بنانے  اور شوہر کو  مٹھی میں رکھنے کیلئے   کچھ چیزیں اپنا لیں۔ شوہر جب دفتر سے تھکا ہوا  لوٹے تو صدق دل سے مسکرا کر ، تیار ہوکر اس کو خوش آمدید کہیں، نہ  کہ لہسن  پیاز کی خوشبو میں رچ بس کر اپنے دن بھر کے دکھڑے  اس کے سامنے رکھ دیں، گاہے بگاہے اس کے پسندیدہ کھانے پکائیں، اس سے مناسب فرمائشیں کریں جو  وہ بنا کسی قباحت کے فراہم کرسکے۔ اس طرح اُسے  آپ کی خواہش پوری کرنے میں  بھی کوئی دقت نہیں ہوگی۔

اگر آپ اسی طرح چھوٹی چیزوں کا خیال رکھیں تو رشتے  میں مضبوطی پیدا ہوگی،  آپ کا محبوب قدموں میں نہ سہی لیکن  دل میں ضرور ہوگا، کسی پرائی ‘گولڈ ڈگر’ کی جانب دیکھنے  سے پہلے  ایک بار آپ  کا پُر خلوص محبت سے لبریز چہرہ  اس  کی نظروں کے سامنے ضرور آئے گا اور ہوسکتا ہے کہ  اس کا ضمیر اسے ملامت کرتے ہوئے ہانکتا ہوا  واپس آپ کے در پر لے آئے۔ یہی آپ کی اور محبت کی جیت ہوگی۔  اس لئے خواتین سے گزارش ہے کہ ہم مردوں کو ہر گز ڈھیل نہ دیں، پیار کی رسی تانیں رکھیں، کیونکہ رشتے نبھانا کھیل نہیں، بہت نازک صورت حال ہے یہ۔۔۔!!!

.نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں       

loading...
loading...