حمایت علی شاعر ‘تحمل اور تجسس’ کے احساس کا شاعر

him

اک جبر وقت ہے کہ سہے جارہے ہیں ہم

اور اس کو زندگی بھی کہے جارہے ہیں ہم

وقت کا جبر جھیل کر حمایت علی شاعر بھی رخصت ہوگئے۔ اردو شاعری کو ان کے شعروں نے نئی جہت اور نئےافکاردیے۔فیض احمد فیض نےحمایت علی شاعرکی شاعری کو ‘تحمل اورتجسس کے احساس کی شاعری’ کہا تھا۔  وہ حمایت علی شاعر کے بارے میں کہتے ہیں ‘شاعر بہت ضبط اور نظم کے تحت لکھتے ہی’۔

آج کل لوگوں کوپرانی رویات توڑنےپھوڑنےکاشوق ہےجو یقینا صحت مندبات ہے۔ لیکن روایات کوپاؤں تلے روند دینا اچھی بات نہیں شاعر نےپرانی روایات کوپامال نہیں کیا۔حمایت علی شاعر نےاپنے اشعار میں جمہوریت اورانسان دوستی کو بھی مقدم رکھا۔وہ حاکم وقت کی کسی مصلحت  کا بھی شکار نہ ہوئے۔ ان کا ایک شعر ہے،

راہ زن کے بارے میں اور کیا کہوں کھل کر

میر کارواں یارو،میر کارواں یارو

حمایت علی شاعر ان کا ادبی نام ہے، ان کا اصل نام میر حمایت علی  اور شاعر تخلص ہے۔ وہ  14جولائی 1926 کو اورنگ آباد(دکن) میں پیدا ہوئے اور20 جولائی 2019 کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

انہوں نے صحافت، تحقیق، تعلیم، شاعری، اداکاری، ڈرامہ نویسی، کہانی کار، افسانہ نگار کے طور پر کام کیا۔ وہ روزنامہ ‘خلافت’ روز نامہ ‘جناح’، ‘منزل’ اور ‘ہمدرد’ (حیدرآباد دکن) میں بطورصحافی خدمات دیتے رہے۔ اسی دوران انہوں نے ماہنامہ ‘ساز نو’  کا ایک خاص نمبر بھی نکالا۔ یہ ایک اور ماہانہ ادبی رسالے ‘آدمیت’ سے بھی وابستہ رہے۔ساز نو(حیدرآباد دکن)  اور شعور (حیدرآباد سندھ)  کے مدیر بھی رہے۔

پاکستان آنےکےبعدوہ ریڈیو سےوابستہ ہوگئے۔ سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔یہاں انہوں نے بہت سےتحقیقی کام کیے۔شیخ ایاز پر ان کا کام جدید سندھی ادب کاعہدآفریں شاعراورشخص وعکس تنقیدی مقالات اورمباحث،دکن کےاہل قلم پران کےمضامین کا مجموعہ ‘کھلتے کنول سے لوگ’کےعلاوہ انہوں نے ٹیلی ویژن پرکئی تحقیقی پروگرامزپیش کیے۔جن میں پانچ سوسالہ علاقائی زبانوں کےشعراء کااردوکلام ‘خوشبو کا سفر’، اردو نعتیہ شاعری کے سات سو سال پر ان کا پروگرام ‘عقیدت کا سفر’، احتجاجی شاعری پران کا پروگرام ‘اب آزاد’ اورسندھی شعراء کےاردوکلام کی پانچ سوسالہ تاریخ پران کاپروگرام ‘محبتوں کے سفیر’ عوام میں بےحد پسند کیےگئے۔ حمایت علی شاعر نےفلموں کےلئےگانےبھی لکھےاورفلمیں بھی بنائیں۔ان کے مشہور فلمی نغموں  کی  ایک بڑی تعداد ہے، ان میں سے چند جو بہت مشہور ہیں۔  وہ یہ ہیں۔

جب رات ڈھلی، تم یاد آئے

اک نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ

نہ چھڑاسکوگے دامن

حسن کو چاند، جوانی کو کنول کہتے ہیں

خداوندا،یہ کیسی آگ سی جلتی ہے سینہ میں

نوازش کرم، شکریہ مہربانی

ان کی فلموں میں آنچل، میرے محبوب، دامن، کنیز، نائلہ شامل ہیں۔

انہوں نے شاعری میں ایک نیا تجربہ ‘ثلاثی’ کے تحت کیا ہے جس میں تین مصرعے ہوتے ہیں۔ حمایت  علی شاعر سندھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے بھی منسلک رہے۔ان کی تصانیف میں ‘آگ میں پھول’، ‘شکست آرزو’، ‘مٹی کا قرض’، ‘تشنگی کا سفر’، ‘حرف حرف روشنی’، ‘دود چراغ محفل’ (مختلف شعرا کے کلام)، ‘عقیدت کا سفر'(نعتیہ شاعری کے سات سو سال، تحقیق)، ‘آئینہ در آئینہ'(منظوم خودنوشت سوانح حیات)، ‘ہارون کی آواز'(نظمیں اور غزلیں)، ‘تجھ کو معلوم نہیں'(فلمی نغمات)، ‘کھلتے کنول سے لوگ’ (دکنی شعرا کا تذکرہ)، ‘محبتوں کےسفیر’ (پانچ سو سالہ سندھی شعرا کا اردو کلام)۔

حمایت علی شاعر کونگار ایوارڈ(بہترین نغمہ نگار)، رائٹرگلڈآدم جی ایوارڈ، عثمانیہ گولڈ مڈل (بہادر یار جنگ ادبی کلب) سے نوازا گیا۔ ان کی ادبی اور دیگر خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا۔ حیدرآباد (دکن) اور حیدرآباد (سندھ) دونوں شہروں کی ادبی فضا انہیں راس آئی۔  ایک زمانے میں ان کی ادبی سرگرمیوں اور محفلوں کا مرکز سلطان ہوٹل حیدرآباد ہوا کرتا تھا۔حمایت علی شاعر  کی شاعری کو حیدرآباد کی شعری محفلوں نے اعتبار بخشا۔میری پہلی ملاقات حمایت علی شاعر سے حیدرآباد کے سلطان ہوٹل میں ہوئی تھی، جہاں میں پہلی بار کراچی سے اپنے حیدرآباد کے ادیب و شاعر دوستوں سے ملنے گیا تھا۔ سلطان ہوٹل حیدرآباد میں ادیبوں اور شاعروں کی ایک بیٹھک کا درجہ رکھتا تھا۔جس طرح لاہور میں پاک ٹی ہاؤس شاعروں اور ادیبوں کا مسکن تھا،اسی ہوٹل کے کسی کونے میں حیدرآباد کے مشہور شاعر قابل اجمیری، اختر انصاری اکبر آبادی اور حمایت علی ادبی گفتگو کیا کرتے تھے۔

حمایت علی شاعر نے پی ایچ ڈی کےسلسلے میں اپنا مقالہ ‘پاکستان میں اردو ڈراما’، سندھ یونیورسٹی (حیدرآباد)  میں جمع کروایا تھا۔ ان کے ڈراموں کا مجموعہ ‘فاصلے’ کے عنوان سے طبع ہوا۔1950ء  میں آپ کا شعری مجموعہ ‘گھن گھرج’ بھارت سے شائع ہوا۔انہوں نے حیدر آباد سندھ میں ‘ارڑنگ’ کے نام سے ایک ثقافتی ادارہ بھی قائم کیا تھا۔

ان کی فلم ‘لوری’ بہت کامیاب رہی تھی لیکن ‘گڑیا’ کی ناکامی نےانہیں فلمی دنیاسےدل برداشتہ کر دیا۔  اس بارے میں یونس ہمدم رقم طراز  ہیں کہ  فلم ‘لوری’ اپنی خوبصورت کہانی، عمدہ ہدایت کاری، زیبا، محمد علی کی خوبصورت اداکاری اور حمایت علی شاعر کے دل میں اترجانے والے گیتوں کی وجہ سے باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئی تھی۔ لوری کی کامیابی سے حمایت علی شاعر کے حوصلے اور بڑھتے گئے اور پھر انہوں نے ‘گڑیا’ کے نام سے دوسری فلم کا آغاز کیا۔

دوسری فلم میں بھی زیبا اور محمدعلی ہی مرکزی کردار میں تھے مگر اس بار اداکارہ زیبا فلم ‘گڑیا’ کو وقت نہیں دے رہی تھی اوراس طرح فلم ‘گڑیا’ تعطل کا شکار ہوتی چلی گئی۔ پروڈکشن کے اخراجات بڑھتے چلے گئے اور حمایت علی شاعر نے فلم لوری سے جو کچھ کمایا تھا وہ بھی گڑیا کی نذرکردیا مگرگڑیا کسی طرح بھی گرفت میں نہیں آرہی تھی۔ محمد علی نے بھی چپ ہی سادھ لی تھی اور وہ زیبا پر زیادہ دباؤ ڈالنے میں بھی ناکام رہے تھے۔یوں انہوں نے فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

حمایت علی شاعر کی ادبی خدمات کا سلسلہ گذشتہ پانچ دہائیوں پر پھیلا ہے۔ ریڈیو پر صداکاری ہو یا پھر ٹی وی پروگراموں کی تنظیم، مشاعرے ہوں یا پھر تحقیقی کام، حمایت علی شاعر نے بہت سی اصناف میں کام کرکے اپنا سکہ جمایاہے۔  ریڈیو کو وسیلہ روزگار بنانے کے بارے میں ایک انٹرویو میں حمایت علی شاعر نے بتایاکہ حیدرآباد دکن ظاہر ہے کہ ریاست کا شہر تھا اور میں ریڈیو پر بھی رہا ہوں اور نہ صرف یہ کہ ریڈیو ڈراموں میں کام کرتا تھا۔ اناؤنسر بھی تھا، خبریں بھی پڑھتا تھا اور کمنٹری بھی کرتا تھا۔ تو میں بہت سے زاویوں سےریڈیو میں  کام کرتا تھا۔ پھر اخبارات میں لکھتا بھی تھا۔ پھر جب میں پاکستان آیا تو یہاں بھی مجھے ریڈیو میں نوکری مل گئی۔ 60ء  کے عشرے میں انہوں نے پاکستان کی فلمی دنیا میں بطور گیت نگار قدم رکھا اوربہت سے نگار ایوارڈز اپنے نام کیے۔صحافتی، ادبی اور تحقیقی حوالے سے بے شمار کتابوں کے اس خالق کو 2002ء  میں حکومت ِ پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈبھی دیا گیا۔ انہوں  نے اپنی سوانح عمری  منظوم  شکل میں لکھی۔اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ‘آئینہ در آئینہ’ میری منظوم سوانح ِ حیات ہے۔اردو میں سوانح حیات نہیں لکھی گئی۔ چھوٹی موٹی کہانیاں لو سٹوری ٹائپ چیزیں تو منظوم لکھی گئیں۔ لیکن پوری زندگی قلم بندکرنا مشکل ہے۔ جس میں زندگی کی مشکلات اور باقی تمام مسائل بھی ہیں۔ تو یہ پہلی بار میں نے لکھااور میری ہمیشہ ایک آرزو رہی کہ کوئی ایسا کام کروں کہ جو میرے نام سے منسوب رہے۔

حمایت علی نے ابتدا میں مختلف اخبارات میں حمایت تراب، نردوش کے نام سے بھی لکھا اور کافی عرصہ ابلیس فردوسی کےنام سے طنزیہ کالم بھی لکھتے رہے۔ اسی زمانے میں یہ افسانے اور کہانیاں بھی لکھتے رہے۔ سندھ یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کرنے کے بعد بطور لیکچرار سچل سرمست کالج حیدرآباد میں ملازمت بھی کی۔وہ ادب کی ترقی پسند تحریک کے سرگرم کارکن تھے۔ریڈیو میں بطور براڈ کاسٹر بھی رہے اور اسٹیج کےلیے ڈرامے بھی لکھے اور خود بھی ڈراموں میں کام کیا۔ریڈیو کے صداکار محمد علی اور مصطفیٰ قریشی بھی ان کے ادارے سے وابستہ ہوکر ان کے ساتھ اسٹیج ڈراموں میں حصہ لیا کرتے تھے۔

حمایت علی شاعر کاخوبصورت ترنم ان کی پہچان بنا۔ اپنےخوبصورت ترنم کی وجہ سےوہ اکثر مشاعرے لوٹ لیا کرتےتھے۔کچھ عرصہ تک ٹیلی ویژن کےمقبول ترین پروگرام ‘کسوٹی’ سے بھی وابستہ رہے اور پھر اپنے تمام شاعری کے مجموعوں کویکجاکرکےایک ضخیم کتاب کی صورت میں مرتب کیااوراس کتاب کو’کلیات شاعر’ کا نام دیا اور 960 صفحات پر مشتمل اس کلیات کو حمایت علی شاعر نے اپنی زندگی کا سرمایہ قرار دیا تھا۔

وہ آدمی ہے تو کیوں مجھ سے دور اتنا ہے

وہ خاک ہے تو اسے کیوں غرور اتنا ہے

نظر میں کوئی بھی جچتا نہیں ہے اپنے سوا

کہ آگہی کے نشے میں سرور اتنا ہے

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

loading...
loading...