ادب نوبل انعام سے متعلق شرمناک حقائق کا انکشاف سنتا جا شرماتا جا

1.jpeg5

دنیا بدل رہی ہے، پرانی روایات دم توڑ رہی ہیں،ادب کی دنیا میں نوبل انعام کا بڑا اعتبار تھا۔کیسے کیسے بڑے لوگ تھے، جنہوں نے ادب کا نوبل انعام لیا اور عالمگیر شہرت پائی، ژاں پال سارتر، ہنری برگساں، گبریل گارسیا مارکینر، پرل ایس بک، پال ہیسی، ٹی ایس ایلیٹ، ٹونی موریس، ونٹس چرچل، نجیب
محفوظ، رڈیارڈ کیپلنگ، رابندر ناتھ ٹیگور، جارج برناڈ شا، برٹرینڈ رسل ۔

ادب میں ان کے لکھے ناول،کہانیاں، ادب پارے آج بھی پڑھنے والوں کو محبوب ہیں۔ نوبل انعام برائے ادب 1901 سے 2016 تک 109 مرتبہ 113 لوگوں کو دیا جاچکا ہے۔ لیکن سال رواں میں یہ انعام کسی کو نہیں دیا جائے گا۔گزشتہ سال ادب کا نوبل انعام امریکی گلوکار اور گیت نگار بوب ڈیلان کے نام رہا، وہ پہلے گلوکار تھے جنہیں یہ انعام دیا گیا اور ان کی جیت پر کافی لوگ حیران ہوئے تھے۔لیکن اب ادب نوبل انعام سے متعلق شرمناک حقائق کا انکشاف ہوا ہے، جس نے پوری دنیا میں اس سب سے اہم اور متعبر سمجھے جانے والے ایوارڈ کی شہرت کو گہنا دیا ہے۔

‘نوبل’ انعام دینے والی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ رواں برس ادب کا نوبل انعام نہیں دیا جائے گا۔جنگ عظیم دوئم کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ ادب کا نوبل انعام نہیں دیا جائے گا، تاہم کمیٹی کا کہنا ہے کہ 2019 میں ایک ساتھ 2 انعامات کا اعلان کیا جائے گا۔نوبل پرائز فاؤنڈیشن کے بورڈ آف چیئرمین کارل ہینرک ہیلڈن نے بھی نوبل انعام رواں برس نہ دیے جانے والے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ لیکن اس راز سے پردہ نہیں اٹھایا کہ ادب کا نوبل انعام رواں برس کیوں نہیں دیا جارہا ہے۔

 چند ماہ قبل خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) نے یہ انکشاف کیا تھا کہ نوبل اکیڈمی کی ادب کمیٹی میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ’ریپ‘ کا نشانہ بنائے جانے کا اسکینڈل کی وجہ سے اس شعبے کے انعام کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔ دنیا کے معتبر ترین ایوارڈ دینے والے ادارے میں خواتین کے ساتھ نازیبا رویہ اختیار کیے جانے کا اسکینڈل سے دنیا بھر میں ادارے کی بدنامی ہوئی، ساتھ ہی اس کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔

نوبل پرائز فاؤنڈیشن کی ادب کمیٹی کے تین ججز نے نوبل پرائز فاؤنڈیشن کے عہدوں سے استعفیٰ دیا ان میں ’کلاس اوسٹرگرین، جیل اسمپارک اور پیٹر انگلاڈ‘ شامل تھے،احتجاجاً استعفیٰ دینے والے ججز نہ صرف ادب کمیٹی کے رکن تھے، بلکہ سویڈن کے معروف لکھاری اور ادیب بھی ہیں۔ جن کا مؤقف تھا کہ شکایات کے باوجود کمیٹی خواتین کو ہراساں کرنے والے شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔جس شخص پر خواتین کو ہراساں کرنے اور ’ریپ‘ کا نشانہ بنائے جانے کا الزام ہے، اس کا نام ڑاں کلاڈ آرنالٹ بتایا گیا تھا، جو سویڈن کے ادبی حلقے کے بااثر ترین شخص سمجھے جاتے ہیں، جب کہ ان کی اہلیہ ادب کی نوبل کمیٹی کی رکن ہیں۔ ان پرکم سے کم 18 خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے سمیت ان کا ’ریپ‘ کرنے کا الزام ہے۔ متاثرہ خواتین میں کمیٹی کے ارکان کی بیویاں یا دیگر رشتہ دار بھی شامل ہیں۔

نوبل انعام کی کہانی بھی عجیب ہے، نوبل انعام کا بانی الفریڈ نوبل تھا۔ جس دنیا میں ہلاکت خیز ایجاد کی، جی ہاں ڈائنامائٹ الفریڈ نوبل ہی نے ایجاد کیا تھا۔ جس سے آج بھی دنیا میں خود کش دھماکے اور حملے ہوتے ہیں۔ انسانیت کی ہلاکت خیز ایجاد کے علاوہ بھی متعدد دوسری ایجادات کا سہرا بھی اسی کے سر ہے۔

اپنی زمینوں اور ڈائنامائٹ سے کمائی گئی دولت کے باعث 1896ءمیں اپنے انتقال کے وقت اس نے موت سے قبل اپنی وصیت میں لکھ دیا تھا کہ اس کی یہ دولت ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو انعام کے طور پر دی جائے جنہوں نے گزشتہ سال کے دوران میں طبیعیات، کیمیا، طب، ادب اور امن کے میدانوں میں کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔ اس وقت اس کی دولت کی مالیت 31 ملین سویڈیش کراؤن تھی جو امریکی ڈالر 220ملین کے برابر تھی۔اس وصیت کے تحت فوراً ایک فنڈ قائم کر دیا گیا جس سے حاصل ہونے والا منافع نوبل انعام کے حق داروں میں تقسیم کیا جانے لگا۔ نوبل پرائز کی بنیاد 1901ءمیں پڑی اور اس سال پہلی بار یہ انعامات اور اعزاز دیا گیا۔

نوبل انعام کی پہلی تقریب الفریڈ کی پانچویں برسی کے دن یعنی 10 دسمبر 1901ءکو منعقد ہوئی تھی۔ تب سے یہ تقریب ہر سال اسی تاریخ کو ہوتی ہے۔ادب کا نوبل انعام “سوئیڈش اکیڈمی ” کی جانب سے اس شخص کو دیا جاتا ہے جس نے ادب کے شعبے میں نمایاں کام کیا ہو۔ لیکن کبھی کبھی حکومتیں بھی اس انعام کی راہ میں حائل ہوجاتی ہیں۔
سوویت یونین نے بریس پاسترناک (ادب 1958ء) پر یہ انعام نا لینے کے حوالے سے دباؤ ڈالا اور انھیں یہ انعام لینے سے روک دیا۔ فرانسیسی ادیب اور فلسفی ژاں پال سارتر (ادب 1964ء)نے خود ہی یہ انعام حاصل لینے سے انکار کردیا کیونکہ وہ کسی طرح کا انعام او اعزاز لینے کے ہی قائل نہیں تھے۔ انھوں نے تمام سرکاری اعزازات کا بھی بائیکاٹ کر رکھا تھا۔روس نے اپنے ایک اور ادیب بریس پاسترناک, کو بھی 1958 میں نے ادب کا انعام لینے سے روک دیا تھا۔

ایک اور ادیب لی ڈک تھوا نے1973, یہ انعام لینے سے اس لیے انکار کردیا تھا کہ وہ خود کو اس حقدار نہیں سمجھتے تھے ۔ انھوں نے ویتنام جنگ میں سیز فائر کروانے کے لیے کردار ادا کیا لیکن ان کے نزدیک یہ معاہدہ کامیاب نا ہوا تھا۔ چین کے ایک ادیب لیو شیاوبو بھی2011 میں یہ انعام نہ لے سکے تھے۔ کیونکہ انھیں چینی حکام نے 11 سال کے لیے قید کی سزا سنائی تھی۔

نوبل ایوارڈ کی ادب کمیٹی میں جنسی اسکینڈل کا یہ معاملہ گزشتہ برس نومبر میں شروع ہونے والی خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کے بعد ہی سامنے آیا ہے۔سویڈن کا شمار خواتین اور صنفی تفریق کے حوالے سے بہترین ترین ممالک میں ہوتا ہے، تاہم اب اس ملک کی سب سے معزز کمیٹی میں ہی خواتین کو ہراساں اور ’ریپ‘ کا نشانہ بنائے جانے کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے،  ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

loading...
loading...