ذکر 1965 کی جنگ کا

image-2018-08-03 (1)
جنگ کیا ہوتی ہے؟ اس وقت تک یہ پتہ نہ تھا۔گھر میں ٹرانسسٹر کے گر د سب گھیرا ڈال کر بیٹھے تھے۔ ایوب خان کی سخت اور ٹہری ٹہری آواز میں پاکستان پر بھارت کے حملے کی تقریر سننے کے بعد،عوام میں زبردست جوش و جذبہ بھر گیا۔اسکول میں بھی ہر طرف ایک نیا پن تھا۔پی ٹی کے استاد اور جونیئر کیڈٹ جے سی سی کے نویں دسویں کے لڑکے فوجی وردیوں میں تھے۔

گورنمنٹ ہائی اسکول حیدرآباد کے ایک جانب پریس کلب، دوسری جانب ریڈیو پاکستان کی نئی عمارت، اور تیسری جان کمشنر ہاؤس تھا۔یوں یہاں جنگ کے ذکر کچھ زیادہ ہی تھا، رات کو بلیک آوٹ ہوتا تو لوگ گھروں سے باہر نکل آتے، ہر جانب روشنی پر کڑی نگرانی ہوتی۔ کہیں غلطی سے کوئی روشنی کی رمق نظر آجاتی تو محلہ جمع ہوجاتا، کسی جاسوس کے ہونے یا نہ ہونے پر بحث ہوتی۔ایک دن شام کو بھارتی طیارے پاکستانی حدود میں آگئے اور پاکستانی لڑاکا طیارے ان کا پیچھا کرتے اور حملہ کرتے ہوئے حیدرآباد شہر کی آبادی کے مرکز میں پہنچ گئے، پورے شہر کی آبادی یہ تماشہ دیکھ رہی تھی، نوجوان اور بچے نعرہ تکبیر ، اللہ اکبر کی صداؤں میں ان طیاروں کے پیچھے بھاگنا شروع ہوگئے، کسی کو اس بات کی فکر نہ تھی کہ کوئی بم یا گولیاں ان کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، طیارے کینٹ کے علاقے سے نکل کر آگے میدان میں آگئے، بھارتی طیارہ پاکستانی طیاروں کے نشانے پر آیا اور پھر فضا میں ڈولتا ہوا ریس کورس کے میدان میں جا گرا، طیارے کے ٹکڑے دور دور تک بکھر گئے تھے، اور ہر شخص بھارتی طیارے کی باقیات کو سووینئر کے طور پر اٹھا کر گھر لے جارہا تھا۔

ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے نغمے ، اور پروگرام لوگ رات کی تاریکی میں سنتے ،بابو جی(والد محترم)نے 1965 کی جنگ میں اسلام کوٹ اور تھرپار کر میں محاذ جنگ پر خدمات انجام دیں۔ حیدارآباد میں 1965 کی جنگ شروع ہونے کے اگلے دن کی ایک شام سندھ رینجرز کے کیپٹن ظہیرالدین نے مجھے کہا عطا محمد تمارے ابا محاذ پر جارہا ہیں، اب گھر کی ذمہ داری تماری ہے، جنگ میں شہادت بھی ہوتی ہے، اس لیے اپنے ابا کو گلے مل کر اچھی طرح رخصت کرو۔ میری عمر اس وقت گیارہ سال تھی، بابوجی مہینوں اسلام کوٹ، نگرپارکر، میں سندھ رینجرز اور حر مجاہدین کے ہمراہ محاذ پر رہے، گورنمنٹ ہائی اسکول میں ہم ریت بوریوں میں بھرکر مورچے بناتے، اسکول کے گراونڈ میں ایک لمبی خندق کھودی گئی۔

اکثر سائرن بجاکر ریہرسل میں بچے قطار میں دوڑ کر ان خندق میں اکڑوں بیٹھ جاتے،دانتوں کے درمیان ربڑ رکھ لیتے کانوں میں انگلیاں دے لیتے۔ شام سے ہی بلیک آوٹ ہوجاتا۔ گاڑیوں کی بتیوں پر آدھی لائٹ پر سیاہی پھیر دی گئی تھی۔مدہم روشنیاں، یوں بھی ان دنوں شہر میں بجلی سب گھروں میں نہ تھی، اکثر گھروں میں لاٹین اور چراغ جلاکرتے تھے۔بابو جی نے جب آکر میدان جنگ کے قصے سنائے، لاشوں، اور انسانی اعضاء کے کٹے پھٹے ٹکڑوں اور ان کے جمع شدہ ہتھیاروں کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ آپ ایک پستول لے آتے۔ انھوں نے کہا میدان جنگ میں ملنے والی ساری چیزیں امانت ہوتی ہیں اور وہ سب سرکاری خزانے میں جمع کردی جاتی ہیں۔

بابو جی نے ساری عمر ملیشیاء کے کپڑے پہننے،سائیکل پر سفر کیا،سپید کپڑے کا جوڑا عید بقر عید کے لیے تھا، اور اس پر دادا کی ایک کالی شیروانی جسے ساری عمر انھوں نے سیند سیند کر رکھا، بس عید کی نماز کے لیے ہی پہنتے تھے۔اللہ غریق رحمت کرے، کیسے سادہ اور سادہ دل لوگ تھے۔یہ تمغہ حرب انھیں ان جنگی خدمات پر ملا تھا،جو ان کی ایک نشانی کے طور پر محفوظ ہے۔

.نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں 
loading...
loading...