شاید اس بار بھی تادیبی کاروائی کے لیے متعلقہ اداروں کو کسی سانحے کا انتظار ہو تاکہ اسے جواز بنا کر ایکشن لیا جا سکے

جب فلم پروڈیوسر کی بیگم سے لے کر، اداکار کے ذاتی ڈرائیور تک ہر شخص کو کہانی کار کی کہانی اور مکالموں کو بدلنے کا اختیار حاصل ہو گا تو پھر ایسا ہی ہو گا کہ آپ لاکھ چاہ کر بھی ہندوستانی فلموں کا بائیکاٹ نہیں کر پائیں گے۔